حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال انتخابات میں بی جے پی کی جیت اور اقتدار حاصل ہونے کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد متنازعہ فیصلے کئے گئے ہیں جس سے ملک بھر کے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے اثرات اب صرف انتخابی فہرستوں تک محدود نہیں رہے بلکہ راشن کارڈ جیسے اہم سرکاری فوائد پر بھی اس کے اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل کے بعد 2026 کی ووٹر لسٹ میں نام نہ رکھنے والے یا غیر واضح شناخت والے افراد کے راشن کارڈ منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کی جا رہی ہے، جس سے عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے بوگس اور ڈپلیکیٹ ووٹوں کو ختم کرنے اور ووٹر لسٹ کو شفاف بنانے کے مقصد سے ایس آئی آر عمل مختلف ریاستوں میں انجام دیا جا رہا ہے۔ بعض ریاستوں میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے جبکہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں بھی اسے جلد شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد حکومت نے ایسے افراد کی نشاندہی شروع کر دی ہے جو نااہل ہونے کے باوجود راشن حاصل کر رہے ہیں یا جن کے نام تازہ ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہیں۔ محکمہ شہری رسد کی جانب سے تمام ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ 15 جون تک ایسے افراد کی شناخت کر کے ان کے راشن کارڈ منسوخ کیے جائیں۔
حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد عوامی تقسیم نظام میں موجود بے قاعدگیوں، بوگس راشن کارڈز اور غیر قانونی طور پر فوائد حاصل کرنے والوں کو روکنا ہے۔ تاہم عوامی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جا رہا ہے کہ اگر ووٹر لسٹ کی غلطیوں، نقل مکانی، دستاویزات کی کمی یا تکنیکی مسائل کی وجہ سے کسی حقیقی شہری کا نام فہرست سے باہر ہو جائے تو اس کا راشن کارڈ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایس آئی آر کے دوران دستیاب نہ ہونے والے افراد، نقل مکانی کرنے والے، فوت شدہ افراد، ڈپلیکیٹ اندراجات اور غیر مصدقہ ووٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض زمروں میں ایسے افراد کے راشن کارڈز بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں جنہوں نے دوبارہ فارم 6 کے ذریعے ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل نہیں کرایا یا جن کی میپنگ مکمل نہیں ہوئی۔
اس صورتحال نے خاص طور پر غریب، مزدور، مہاجر، اقلیتی اور دستاویزات کی کمی کا سامنا کرنے والے خاندانوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ راشن کارڈ کو ووٹر لسٹ سے براہ راست جوڑنے سے پہلے حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ کسی حقیقی مستحق خاندان کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ووٹر آئی ڈی، راشن کارڈ، آدھار اور دیگر دستاویزات کی تفصیلات فوری طور پر چیک کریں اور اگر ووٹر لسٹ میں نام موجود نہ ہو تو بروقت فارم 6 کے ذریعے دوبارہ اندراج کرائیں تاکہ مستقبل میں کسی پریشانی سے بچا جا سکے۔


