تبدیلیٔ مذہب کا الزام! مسلم خاتون اور والد گرفتار، ہندو نوجوان نے اسلام مذہب اپناتے ہوئے چاندنی قریشی سے کی تھی شادی

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع شاملی میں مبینہ جبری تبدیلیٔ مذہب کے معاملے میں پولیس نے ایک مسلم خاتون چاندنی قریشی اور ان کے والد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معاملہ ایک ہندو نوجوان آیوش ملک کے اسلام قبول کرنے اور بعد میں چاندنی قریشی سے نکاح کرنے سے متعلق ہے۔ پولیس کے مطابق نوجوان کے والد دیوراج ملک کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو تقریباً چار سال قبل جذباتی جال میں پھنسایا گیا، اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور بعد میں اس کا نام محمد ملک رکھا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نکاح نامہ تیار کرنے کے بعد ان کے بیٹے پر ذہنی دباؤ ڈالا گیا، مالی فائدہ حاصل کیا گیا اور خاندان کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

پولیس نے چاندنی قریشی، ان کے اہل خانہ اور بعض مذہبی شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ شاملی پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جبکہ دیگر نامزد افراد کی تلاش جاری ہے۔

دوسری جانب جوڑے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دونوں بالغ ہیں اور شادی باہمی رضامندی سے ہوئی۔ ان کے مطابق تنازعہ اس لیے پیدا ہوا کیونکہ نوجوان کے اہل خانہ اس کے مذہب تبدیل کرنے اور مسلم خاتون سے شادی کے فیصلے سے ناراض تھے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں درج الزامات ابھی صرف دعوے ہیں، جن کی حقیقت تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔ فی الحال چاندنی قریشی اور ان کے والد پولیس حراست میں ہیں اور معاملے کی مزید جانچ جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں