جنگ کا آغاز کرنے والے ٹرمپ کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران اور اسرائیل نے عارضی طور پر حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کر دی

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل نے کم از کم ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں عارضی کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ تفصیلی اور مثبت بات چیت ہوئی، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’نیتن یاہو پر حملہ ہوا تھا اور انہوں نے جواب دیا، اس لیے میں انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا، لیکن اب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو کچھ عرصے کے لیے تنہا چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔‘‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور ایسا معاہدہ طے پانے کے قریب ہے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے گا۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر نے بھی اسرائیل کے خلاف مزید کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ لبنان اور فلسطین کے عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو مناسب جواب دیا جا چکا ہے، تاہم اگر اسرائیل نے دوبارہ جارحیت کی تو پہلے سے زیادہ سخت اور تباہ کن ردعمل دیا جائے گا۔

ادھر اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب نے بھی امریکی صدر کی اپیل کے بعد ایران پر نئے حملے روک دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہی تو خطے میں ایک بڑے تصادم کا خطرہ وقتی طور پر ٹل سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں