حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے ضلع شاملی میں ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والے نوجوان محمد علی (سابق نام آیوش ملک) کا معاملہ دن بہ دن مزید توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ایک طرف محمد علی مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی، شعور اور دلی اطمینان کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے، دوسری جانب اس معاملے کو لے کر سیاسی، سماجی اور میڈیا حلقوں میں بحث کا سلسلہ جاری ہے۔
محمد علی نے میڈیا کے سامنے آکر واضح الفاظ میں کہا کہ انہوں نے کسی دباؤ، لالچ یا جبر کے تحت نہیں بلکہ برسوں کے غور و فکر کے بعد اسلام قبول کیا۔ ان کے مطابق وہ بچپن ہی سے اسلامی تعلیمات سے متاثر تھے اور 2012 کے بعد ان کا رجحان مزید مضبوط ہوتا گیا۔ بالآخر تقریباً چار سال قبل انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بعد میں چاندنی قریشی سے شادی بھی کی۔
محمد علی کا کہنا ہے کہ ’’میں نے اسلام کو سمجھ کر قبول کیا ہے اور اب کسی بھی صورت میں اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان پر مسلسل ہندو مذہب میں واپسی کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، لیکن وہ اپنے ایمان اور فیصلے پر ثابت قدم ہیں۔
اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ محمد علی خود بار بار اپنے قبولِ اسلام کو رضاکارانہ قرار دے رہے ہیں، اس کے باوجود ان کی اہلیہ چاندنی قریشی، ان کے والد اسلام قریشی اور دیگر افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔ محمد علی کے والد دیوراج ملک نے الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا گیا، جبکہ محمد علی ان الزامات کو مسلسل مسترد کر رہے ہیں۔
سٹی سرکل آفیسر جتیندر کمار کے مطابق معاملے کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس معاملے نے ایک بار پھر مذہبی آزادی، شخصی اختیار اور بالغ افراد کے آئینی حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ محمد علی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک بالغ شخص کو اپنے مذہب کے انتخاب کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ مخالف حلقے اس معاملے میں مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
فی الحال تمام نظریں عدالت اور تحقیقاتی عمل پر مرکوز ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ قانونی کارروائی کس سمت میں جاتی ہے، لیکن ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ محمد علی کھل کر اپنے ایمان اور فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں اور بار بار یہی کہہ رہے ہیں: ’’الحمد للہ! میں مسلمان ہوں۔‘‘
یہ خبر پڑھیں:


