حیدرآباد میں بارش کا قہر، پرانے شہر میں کرنٹ لگنے سے دو نوجوان جاں بحق، 76 مقامات پر درخت جڑ سے اکھڑ گئے

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں مانسون کی پہلی شدید بارش کئی خاندانوں کے لیے غم و اندوہ کا سبب بن گئی۔ پرانے شہر کے بنڈلہ گوڑہ میں بارش کے دوران بجلی کی تاریں ٹوٹ کر سڑک پر جمع پانی میں گر گئیں، جس کے نتیجے میں دو نوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔

پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ رائل سی ہوٹل کے قریب پیش آیا۔ 25 سالہ جعفر اور 16 سالہ ابو ایک آٹو رکشہ میں وہاں پہنچے تھے۔ شدید بارش کے باعث بجلی کی تاریں سڑک پر جمع پانی میں گر چکی تھیں، تاہم دونوں نوجوانوں کو اس خطرے کا علم نہ ہوسکا۔ جیسے ہی وہ پانی سے گزرے، شدید کرنٹ لگنے سے گر پڑے۔

عینی شاہدین نے فوری طور پر بجلی کی فراہمی منقطع کرانے کی کوشش کی اور متاثرین کو بچانے کے لیے دوڑ پڑے، تاہم جعفر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ شدید زخمی ابو کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ راستے میں ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بنڈلہ گوڑہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر کے مقدمہ درج کرلیا۔ مقامی افراد نے محکمہ برقیات پر شدید غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹوٹی ہوئی تاروں کو بروقت ہٹایا جاتا تو یہ قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔

دوسری جانب شہر میں موسلا دھار بارش کے باعث متعدد علاقوں میں پانی جمع ہوگیا اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ بیگم پیٹ، خیریت آباد، سکندرآباد، مشیر آباد، نامپلی، گچی باؤلی، کونڈاپور اور رائے درگ سمیت کئی علاقوں میں گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔

ہائیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور ٹینک بنڈ سمیت مختلف مقامات پر صورتحال کا جائزہ لیا۔ تیز ہواؤں کے باعث شہر میں تقریباً 76 مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ کئی سڑکیں زیر آب آگئیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارش کے دوران پانی بھرے علاقوں اور بجلی کی تاروں سے دور رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں