حیدرآباد (دکن فائلز) کانگریس کی سینئر رہنما میناکشی نٹراجن نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے اپنی نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، تاہم انہیں فوری راحت حاصل نہیں ہو سکی۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے کی سماعت ضرور قبول کی، لیکن انتخابی عمل یا نتائج پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔
کانگریس کا مؤقف ہے کہ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کو غیرقانونی اور سیاسی دباؤ کے تحت مسترد کیا گیا۔ پارٹی نے الیکشن حکام کے فیصلے کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اپوزیشن کی نمائندگی کو کمزور کرنا ہے۔
دوسری جانب الیکشن حکام نے نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے کو قواعد و ضوابط کے مطابق قرار دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے ان کی امیدواریت کو مسترد کیا تھا۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کانگریس نے انتخابی عمل پر عبوری روک لگانے کی درخواست کی، لیکن عدالت نے فوری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے تفصیلی سماعت کا راستہ اختیار کیا۔ اس فیصلے کے بعد مدھیہ پردیش کی راجیہ سبھا نشست کے لیے سیاسی کشمکش مزید تیز ہو گئی ہے اور کانگریس نے قانونی لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔


