’وہ مسلمان ہے، اس لیے نوکری نہیں!‘ مذہب کی بنیاد پر انٹرویو سے محروم کرنے کا دعویٰ۔۔۔ ہندوتوا شدت پسندی عروج پر؟

حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک کے شہر بنگلور میں ایک مسلم نوجوان کو مبینہ طور پر صرف مذہب کی بنیاد پر ملازمت کے انٹرویو سے محروم کیے جانے کے دعوے نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب قانون کے طالب علم اور انٹرن محمد امین نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ شیئر کی۔

محمد امین کے مطابق ان کے ایک مسلم دوست کو کسی کمپنی میں انٹرویو کے لیے موقع ہی نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مبینہ واٹس ایپ گفتگو کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا جس میں ایک ریکروٹر کی جانب سے لکھا گیا تھا: ’’وہ مسلمان ہے، اس لیے ہم دلچسپی نہیں رکھتے۔‘‘

امین کا کہنا ہے کہ انہیں سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ انکار کی وجہ کھلے الفاظ میں مذہب کو بتایا گیا، جبکہ عموماً کمپنیاں رسمی وجوہات پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے طالب علم کی حیثیت سے وہ مساوات، عدم امتیاز اور آئینی حقوق کے بارے میں پڑھتے ہیں، لیکن ایسے واقعات قانون اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔

تاہم اس دعوے کے ساتھ کمپنی یا ریکروٹر کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جس کے باعث کئی افراد نے اس واقعے کی صداقت پر سوال بھی اٹھائے۔ بعض وکلا اور پیشہ ور افراد نے مطالبہ کیا کہ اگر واقعہ درست ہے تو کمپنی اور متعلقہ افراد کی تفصیلات سامنے لائی جائیں تاکہ معاملے کی جانچ ہو سکے۔

دوسری جانب کئی صارفین نے اسے معاشرے میں موجود مذہبی تعصب کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملازمت کے مواقع کا فیصلہ امیدوار کی صلاحیت اور کردار کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے مذہب، ذات یا پس منظر پر۔ اگرچہ واقعے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس نے بھارت میں ملازمتوں میں مساوی مواقع اور اقلیتوں کو درپیش ممکنہ امتیاز کے موضوع پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں