حیدرآباد (دکن فائلز) عمان کے ساحل کے قریب امریکی فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی ملاح آدتیہ شرما کے والد راجیش شرما کے پرانے سوشل میڈیا بیانات منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
23 سالہ آدتیہ شرما ہماچل پردیش کے رہنے والے تھے اور پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی سیٹے بیلو پر ڈیک کیڈٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ امریکی فوجی حملے میں ان سمیت تین بھارتی ملاح ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر 21 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
آدتیہ کی گمشدگی کی اطلاعات کے دوران ان کے والد راجیش شرما نے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیلیں کی تھیں اور اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم اسی دوران ان کے پرانے سوشل میڈیا پوسٹس بھی وائرل ہونا شروع ہوگئے۔
وائرل اسکرین شاٹس کے مطابق راجیش شرما نے اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران ایک پوسٹ میں مبینہ طور پر لکھا تھا کہ ’’اسرائیل کو پورے غزہ کو مسلمانوں سے پاک کر دینا چاہیے‘‘۔ اسی پوسٹ میں انہوں نے اسرائیلی فوج اور خفیہ ایجنسی موساد کی تعریف بھی کی تھی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر پوسٹس میں مسلمانوں کے خلاف سخت اور متنازع ریمارکس بھی شامل ہیں۔ بعض پوسٹس میں انہوں نے مسلمانوں اور مسلم خواتین کے حجاب و برقعہ سے متعلق بھی اشتعال انگیز تبصرے کیے تھے۔
ان پوسٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید مذمت کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز بیانات کی ہر صورت میں مذمت ہونی چاہیے۔
ادھر آدتیہ شرما کے اہل خانہ نے امریکی کارروائی کو ’’انسانیت سوز‘‘ قرار دیتے ہوئے حکومت ہند سے سخت موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ راجیش شرما نے کہا کہ کسی تجارتی جہاز پر میزائل حملہ جنگی جرم کے مترادف ہے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔


