حیدرآبادیوں کےلئے ہائی الرٹ! تلنگانہ میں گردوں کے امراض سے اموات کی شرح ملک میں سب سے زیادہ، ماہرین نے تشویشناک وجوہات بیان کردیں

حیدرآباد (دکن فائلز) انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) سے وابستہ انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ کی تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ تلنگانہ گردوں کے امراض (کڈنی ڈیزیز) سے ہونے والی اموات کے معاملے میں ملک بھر میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست میں ہر ایک لاکھ افراد میں تقریباً 20 افراد گردوں کی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار رہے ہیں، جو قومی سطح پر سب سے زیادہ شرح ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ نئے گردوں کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے تلنگانہ سرفہرست نہیں ہے، تاہم اموات کی بلند شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیماری کی بروقت تشخیص اور مؤثر علاج میں سنگین چیلنجز موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق ریاست میں گردوں کے امراض سے ہونے والی تقریباً 25 فیصد اموات کی بنیادی وجہ ٹائپ ٹو ذیابیطس ہے، جو ملک میں سب سے زیادہ تناسب ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو نظر انداز کرنا، نوجوانوں میں بغیر طبی مشورے کے پروٹین سپلیمنٹس اور کریاٹین کے استعمال کا بڑھتا رجحان، درد کش ادویات کا بے جا استعمال اور بیماری کی دیر سے تشخیص گردوں کی خرابی کی بڑی وجوہات ہیں۔ نِمز کے ڈاکٹروں کے مطابق 20 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان بھی گردوں کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گردوں کی بیماری اکثر خاموشی سے بڑھتی ہے اور ابتدائی مراحل میں اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ 50 سے 60 فیصد مریض اسپتالوں میں اس وقت پہنچتے ہیں جب بیماری خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ 30 سال سے زائد عمر کے افراد، خصوصاً شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض، باقاعدگی سے یورین پروٹین ٹیسٹ اور بلڈ کریاٹینین ٹیسٹ کروائیں تاکہ بیماری کو ابتدائی مرحلے میں ہی قابو کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ’’خاموش قاتل‘‘ آنے والے برسوں میں مزید جانیں لے سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں