کیا اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ بھی پیسے لے کر چلیں گے؟ میٹا کا بڑا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) دنیا بھر میں اربوں افراد کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ان پلیٹ فارمز کی مالک کمپنی میٹا نے پہلی مرتبہ اپنے مقبول ترین سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے لیے باضابطہ طور پر “پلس” (Plus) نامی سبسکرپشن سروس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت صارفین اضافی اور خصوصی فیچرز حاصل کرنے کے لیے ماہانہ فیس ادا کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق انسٹاگرام پلس اور فیس بک پلس کی ماہانہ قیمت 3.99 ڈالر جبکہ واٹس ایپ پلس کی قیمت 2.99 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اگرچہ بنیادی سروسز بدستور مفت رہیں گی، تاہم ادائیگی کرنے والے صارفین کو کئی خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انسٹاگرام اور فیس بک کے پریمیم صارفین کو بہتر اینالیٹکس، اسٹوری ری واچ اسٹیٹس، پروفائل کسٹمائزیشن، وسیع تر ریچ، سپر ری ایکشنز اور دیگر خصوصی فیچرز دستیاب ہوں گے۔ دوسری جانب واٹس ایپ پلس میں پریمیم اسٹیکرز، کسٹم رنگ ٹونز، خصوصی تھیمز، اضافی پن شدہ چیٹس اور مزید ذاتی نوعیت کی سہولیات شامل کی جا رہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ میٹا کو اچانک صارفین سے پیسے لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) پر ہونے والے بھاری اخراجات ہیں۔ میٹا اس وقت اربوں ڈالر AI ڈیٹا سینٹرز، چیٹ بوٹس اور نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری پر خرچ کر رہی ہے۔ کمپنی کی آمدنی کا تقریباً تمام انحصار اشتہارات پر ہے، اس لیے وہ نئے ذرائع آمدن تلاش کر رہی ہے تاکہ AI کی دوڑ میں گوگل، اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ جیسے حریفوں کا مقابلہ کر سکے۔

میٹا نے واضح کیا ہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے بنیادی فیچرز مفت ہی رہیں گے اور عام صارفین کے لیے کوئی لازمی فیس نہیں ہوگی۔ تاہم یہ اقدام اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا تیزی سے “فری سروس” سے “فری میم ماڈل” کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں بنیادی سہولت مفت جبکہ جدید اور خصوصی فیچرز صرف ادائیگی کرنے والوں کو ملیں گے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں میٹا مزید پریمیم فیچرز، AI ٹولز اور مشترکہ “میٹا ون” سبسکرپشن متعارف کرا سکتی ہے۔ اس طرح وہ اپنی آمدنی کو اشتہارات سے ہٹا کر سبسکرپشن ماڈل کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ فیصلہ صرف ایک نئی سبسکرپشن سروس نہیں بلکہ سوشل میڈیا کی بدلتی ہوئی معیشت کا اشارہ بھی ہے، جہاں اب صارفین کی توجہ کے ساتھ ساتھ ان کی جیب بھی بڑی اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں