تلنگانہ ایس آئی آر میں 73 لاکھ سے زائد فارم ناقابل حصول قرار! حیدرآباد ضلع میں 19 لاکھ فارمس داخل نہیں کئے گئے (ضروری معلومات کے ساتھ تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں خصوصی جامع نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ کی گھر گھر جانچ اور اینیومریشن فارم جمع کرنے کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ انتخابی حکام کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں مجموعی طور پر تقریباً 3.38 کروڑ ووٹرز ہیں، جن میں سے تقریباً 2.64 کروڑ اینیومریشن فارمز کو ڈیجیٹلائز کیا جاچکا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 78.26 فیصد ووٹرز کے فارم موصول ہوکر ڈیجیٹلائز کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 73.53 لاکھ فارمز فیلڈ سطح پر مقررہ مدت تک موصول نہیں ہوسکے۔ ان معاملات کو انتخابی حکام نے “Uncollectable” یعنی ناقابل حصول کے زمرے میں رکھا ہے۔

تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تعداد حتمی نہیں سمجھی جانی چاہیے۔ مقررہ مراکز اور آن لائن سہولت کے ذریعے مزید فارم موصول ہوسکتے ہیں اور انہیں مقررہ طریقہ کار کے مطابق شامل کیا جائے گا۔ ریاست میں ناقابل حصول قرار دیے گئے فارمز کی سب سے بڑی تعداد حیدرآباد میٹروپولیٹن خطے میں سامنے آئی ہے۔

حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل۔ملکاجگری اضلاع میں مجموعی طور پر تقریباً 43 لاکھ فارمز موصول نہیں ہوسکے، جو ریاست کے کل ناقابل حصول فارمز کا تقریباً 58 فیصد ہیں۔

حیدرآباد ضلع میں تقریباً 47.36 لاکھ ووٹرز ہیں۔ ان میں سے تقریباً 27.90 لاکھ ووٹرز کے فارم ڈیجیٹلائز ہوئے، جبکہ تقریباً 19.47 لاکھ فارم ناقابل حصول قرار دیے گئے ہیں۔

رنگاریڈی میں تقریباً 36.99 لاکھ ووٹرز میں سے 24.10 لاکھ کے فارم ڈیجیٹلائز ہوئے اور تقریباً 12.88 لاکھ فارم باقی رہے۔ میڑچل۔ملکاجگری میں 29.79 لاکھ ووٹرز میں سے تقریباً 19.05 لاکھ فارم ڈیجیٹلائز ہوئے، جبکہ تقریباً 10.73 لاکھ فارم ناقابل حصول رہے۔

ریاست کے کئی دیہی اضلاع میں SIR اینیومریشن کا عمل نسبتاً بہتر رہا۔ یادادری۔بھونگیر، میدک، سوریہ پیٹ، جنگاؤں اور محبوب آباد میں فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن 90 فیصد سے زیادہ رہی۔ کئی دیگر اضلاع میں بھی یہ شرح 85 سے 89 فیصد کے درمیان رہی، جن میں عادل آباد، نرمل، نظام آباد، کاماریڈی، جگتیال، پداپلی، سدی پیٹ، محبوب نگر، نلگنڈہ، ورنگل، کھمم، بھدرادری۔کوتہ گوڑم اور دیگر اضلاع شامل ہیں۔

جگتیال ضلع میں دھرم پوری حلقہ 92 فیصد ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ آگے رہا، جبکہ کورٹلہ میں 89.18 فیصد اور جگتیال میں 87.70 فیصد فارم ڈیجیٹلائز ہوئے۔ پداپلی ضلع کے منتھنی اسمبلی حلقے میں یہ شرح 90.01 فیصد رہی۔

SIR کے دوران کئی ایسے ووٹرز کی بھی نشاندہی ہوئی جو اپنے سابقہ پتے پر موجود نہیں تھے۔ ریاستی سطح پر تقریباً 73.39 لاکھ فارم مختلف وجوہات کی بنا پر حاصل نہیں کیے جاسکے۔ ان میں تقریباً 45.18 لاکھ افراد کے مستقل طور پر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے، 9.22 لاکھ ووٹرز کے انتقال، 11.25 لاکھ افراد کے پتے کا سراغ نہ ملنے اور تقریباً 6.70 لاکھ افراد کے دیگر مقامات پر پہلے ہی ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

عادل آباد اور بوتھ اسمبلی حلقوں میں بھی انتخابی عملے نے فوت شدہ، منتقل ہوچکے اور غیر حاضر ووٹرز کی نشاندہی کی۔ وہاں 4,03,367 فارم ڈیجیٹلائز کیے گئے جبکہ 63,417 معاملات کو ممکنہ اخراج کے لیے نشان زد کیا گیا، جن میں 13,364 فوت شدہ، 30,442 منتقل شدہ اور 11,909 غیر حاضر ووٹرز شامل تھے۔

تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر اب اینیومریشن کے دوران حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر 17 اگست کو مسودہ ووٹر فہرست جاری کریں گے۔ تاہم مسودہ فہرست کے اجرا کے ساتھ SIR کا عمل ختم نہیں ہوگا۔ جن ووٹرز کے نام مسودہ فہرست میں شامل نہیں ہوں گے، انہیں اپنے نام کی شمولیت کے لیے 17 اگست سے 16 ستمبر کے درمیان دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

انتخابی حکام دعووں اور اعتراضات کی سماعت اور مقررہ نوٹس کے عمل کو 17 اگست سے 15 اکتوبر کے درمیان مکمل کریں گے، جبکہ تلنگانہ کی حتمی ووٹر فہرست 19 اکتوبر کو شائع کیے جانے کا شیڈول ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی ووٹر کا نام مسودہ فہرست میں نظر نہیں آتا تو اس کا یہ مطلب لازماً نہیں کہ اس کا ووٹ مستقل طور پر ختم ہوگیا ہے۔ مقررہ مدت میں دعویٰ یا اعتراض داخل کرکے نام شامل کرانے کا موقع موجود رہے گا، جس کے بعد معاملے کی جانچ کرکے حتمی فہرست تیار کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں