حیدرآباد (دکن فائلز) محنت، ناکامی سے سبق سیکھنے اور مسلسل جدوجہد کی بدولت سول سروسز امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والی تلنگانہ کی سائی شیوانی ان دنوں اپنی UPSC انٹرویو کے ایک دلچسپ سوال کے جواب کی وجہ سے بھی خبروں میں ہیں۔
ورنگل سے تعلق رکھنے والی سائی شیوانی نے UPSC سول سروسز امتحان میں آل انڈیا 11ویں رینک حاصل کی اور تلگو ریاستوں میں ٹاپر رہیں۔ ٹی وی 9 تلگو کے مطابق ان کا تعلق ایک متوسط طبقے کے خاندان سے ہے اور بچپن ہی سے انہوں نے سول سروس میں جانے کا ہدف مقرر کر رکھا تھا۔
سائی شیوانی نے دسویں جماعت تک تعلیم کھمم میں حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے اڈوپل پلی ٹرپل آئی ٹی سے انٹرمیڈیٹ اور انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کی۔ ان کے والد راج کمار میڈیکل نمائندے کے طور پر کام کرتے ہیں جبکہ والدہ رچیتا گھریلو خاتون ہیں۔
ان کے مطابق گھر کا تعلیمی ماحول اور والد کی جانب سے بچپن میں عام معلومات سے متعلق سوالات پوچھنے کی عادت نے ان کی علمی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ مشکل سوالات کے جواب تلاش کر کے دوبارہ بیان کرنے کی عادت رکھتی تھیں، جس سے ان کے اندر سیکھنے اور معلومات جمع کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔
سائی شیوانی کا UPSC کا سفر بھی آسان نہیں تھا۔ انہوں نے تقریباً تین سال تک اس امتحان کی تیاری کی۔ پہلی کوشش میں وہ پریلمز بھی کامیاب نہیں کر سکیں۔ انہوں نے اپنی پہلی ناکامی کی وجوہات میں مناسب منصوبہ بندی نہ ہونا، محدود مطالعاتی مواد استعمال کرنا اور امتحان کے طریقہ کار کو پوری طرح نہ سمجھنا شامل کیا۔ تاہم انہوں نے ناکامی کو اپنی منزل کا اختتام نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنی تیاری بہتر بنانے کا ذریعہ بنایا۔
دوسری کوشش میں انہوں نے زیادہ منظم انداز اختیار کیا۔ آن لائن ذرائع سے ضروری مطالعاتی مواد حاصل کیا، گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچوں کا تجزیہ کیا اور باقاعدگی سے ریویژن پر توجہ دی۔
رپورٹ کے مطابق پریلمز کی تیاری کے دوران وہ روزانہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے پڑھتی تھیں، جبکہ مینز کے دوران مطالعے کا دورانیہ بڑھ کر 13 سے 14 گھنٹے روزانہ تک پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے انتھروپولوجی کو اختیاری مضمون کے طور پر منتخب کیا اور اہم موضوعات کے مختصر نوٹس تیار کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری اعداد و شمار اور سابقہ سوالات پر خصوصی توجہ دی۔
ان کے UPSC انٹرویو میں کئی دلچسپ سوالات پوچھے گئے۔ پانچ رکنی بورڈ کے ساتھ ان کا انٹرویو تقریباً آدھے گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا سوال تھا کہ “اگر چھ سال کا بچہ آپ سے پوچھے کہ خدا کون ہے تو آپ اسے کیا جواب دیں گی؟”
سائی شیوانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ خدا کا کوئی مخصوص ظاہری روپ ضروری نہیں اور انسان اپنی زندگی کے تجربات کے ذریعہ روحانیت کو سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد کرنے والا ہر انسان خدا کی طرح ہے۔ اس کے بعد ان سے بھگود گیتا کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا کہ اگر ہر دور میں خدا کے آنے کی بات کی جاتی ہے تو پھر معاشرے میں ناانصافی کے وقت خدا کیوں نہیں آتا؟
سائی شیوانی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ معاشرے کے ہر انسان میں کچھ نہ کچھ اچھائی موجود ہوتی ہے اور ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد کرنے والا ہر شخص خدا کی ایک شکل ہے۔ ان کے مطابق خدا کو کہیں باہر سے آنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اچھا کام کرنے والے ہر انسان میں خدا کو دیکھا جا سکتا ہے۔
انٹرویو کے دوران ان سے ورنگل کی خصوصیات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کاکتیہ سلطنت، ورنگل کی تاریخی اہمیت، رامپا مندر اور کاکتیہ کلا تھورنام سمیت خطے کے تاریخی ورثے کے بارے میں تفصیل سے جواب دیا۔
سائی شیوانی کی کامیابی اس لحاظ سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے پہلی ناکامی سے مایوس ہونے کے بجائے اپنی تیاری کی خامیوں کی نشاندہی کی اور دوسری کوشش میں بہتر حکمتِ عملی کے ساتھ امتحان دیا۔ ان کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ ناکامی کو سبق بنا کر مسلسل محنت، نظم و ضبط اور درست منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو بڑے سے بڑا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔


