حیدرآباد (دکن فائلز) شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد کے خلاف مبینہ طور پر جعلی فیس بک پروفائل کے ذریعے قابل اعتراض، توہین آمیز اور گمراہ کن مواد پوسٹ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کے سلسلے میں لکھنؤ کے سعادت گنج تھانے میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور پولیس سائبر سیل کی مدد سے معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رستم نگر کے رہنے والے عباس مہدی نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ ان کا الزام ہے کہ کچھ نامعلوم سماج دشمن عناصر نے فیس بک پر جعلی آئی ڈی بنائی اور اس کے ذریعے ان کے دوست ایڈووکیٹ محمد نقوی، میثم اور معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد کے خلاف قابل اعتراض مواد نشر کیا۔
شکایت کنندہ کے مطابق مذکورہ فیس بک اکاؤنٹ سے ان افراد کی تصاویر بھی استعمال کی گئیں اور تصاویر پر مبینہ طور پر نفرت انگیز، توہین آمیز اور غیر مہذب الفاظ تحریر کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پوسٹس سے متعلقہ افراد کی سماجی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے جعلی فیس بک پروفائل کا استعمال کیا۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے اس اکاؤنٹ کو چلانے والے شخص یا افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس سائبر سیل کی مدد سے مبینہ جعلی اکاؤنٹ کی سرگرمیوں، پوسٹ کیے گئے مواد اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر کسی فرد کی شناخت یا تصویر کا مبینہ طور پر غیر مجاز استعمال، توہین آمیز مواد کی تشہیر اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزامات نے ایک بار پھر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کا مسئلہ اجاگر کیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ مذکورہ اکاؤنٹ کس نے بنایا، پوسٹس کس شخص یا گروہ کی جانب سے اپ لوڈ کی گئیں اور ان کے پیچھے اصل مقصد کیا تھا۔
فی الحال پولیس نے مقدمہ درج کرکے معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے، جبکہ ملزمان کی شناخت اور ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی۔


