مسلم نکاح، اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹر ہونے کے باوجود شریعت کے تابع رہے گا: کرناٹک ہائی کورٹ

حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اگر کسی مسلمان جوڑے کا نکاح پہلے مسلم پرسنل لا یعنی شریعت کے مطابق انجام پاتا ہے اور بعد میں اسے اسپیشل میرج ایکٹ 1954 کے تحت صرف رجسٹر کرایا جاتا ہے تو محض رجسٹریشن کی بنیاد پر اس نکاح کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ ایسا نکاح بدستور مسلم پرسنل لا کے تحت ہی سمجھا جائے گا اور اسپیشل میرج ایکٹ کی طلاق سے متعلق دفعات خود بخود اس پر لاگو نہیں ہوں گی۔

یہ فیصلہ کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس ڈی کے سنگھ اور جسٹس ٹی ایم نداف پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سنایا۔ عدالت نے ایک مسلم شوہر کی جانب سے دائر اپیل مسترد کردی، جس میں اس نے فیملی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت اسپیشل میرج ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت دائر اس کی طلاق کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا گیا تھا۔

لا بیٹ کی رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں دونوں فریق مسلمان تھے اور ان کا نکاح 4 اپریل 2015 کو شریعت کے مطابق ہوا تھا۔ نکاح کے بعد اسے باقاعدہ نکاح رجسٹرار کے پاس بھی درج کرایا گیا۔ بعد ازاں بیرون ملک سفر کی ضرورت کے پیش نظر جوڑے نے اپنی شادی کو اسپیشل میرج ایکٹ 1954 کے تحت بھی رجسٹر کرایا اور 21 دسمبر 2015 کو انہیں میرج سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔

بعد میں میاں بیوی کے درمیان ازدواجی اختلافات پیدا ہوئے تو شوہر نے فیملی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسپیشل میرج ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت طلاق کی درخواست دائر کی۔ تاہم فیملی کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کردیا۔ عدالت کا موقف تھا کہ شادی بنیادی طور پر مسلم پرسنل لا کے تحت انجام دی گئی تھی اور بعد میں اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت اس کی رجسٹریشن سے شادی کی قانونی نوعیت تبدیل نہیں ہوگئی۔

شوہر نے کرناٹک ہائی کورٹ میں دلیل دی کہ چونکہ شادی بعد میں اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوئی، اس لیے اب اسے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہونے والی شادی تصور کیا جانا چاہیے اور اس ایکٹ کی طلاق سے متعلق دفعات اس پر لاگو ہونی چاہئیں۔

ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کردیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ نکاح اگر ابتدا ہی سے کسی مخصوص مذہبی قانون کے تحت انجام دیا گیا ہو تو بعد میں محض اس کی رجسٹریشن اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہوجانے سے اس کی بنیادی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔

عدالت نے کہا کہ شریعت کے مطابق انجام دیے گئے مسلم نکاح کو صرف رجسٹریشن کے عمل کی وجہ سے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہونے والی شادی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اسپیشل میرج ایکٹ اور مختلف مذاہب کے شخصی قوانین کی ایسی تشریح ہونی چاہیے جس سے دونوں قانونی نظاموں میں ہم آہنگی برقرار رہے۔

عدالت کے مطابق کسی مخصوص مذہبی قانون کے تحت پہلے سے انجام دی گئی شادی صرف اس وجہ سے اپنی اصل قانونی نوعیت نہیں کھوتی کہ بعد میں اسے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹر کرایا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت صرف وہی شادیاں اس قانون کے دائرے میں آتی ہیں جو خود اسی قانون کے تحت انجام دی گئی ہوں۔ کسی شخصی قانون کے تحت پہلے سے انجام دی گئی شادی کو بعد میں محض رجسٹر کرانے سے اسے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت solemnised marriage یعنی اسی قانون کے تحت انجام دی گئی شادی نہیں سمجھا جائے گا۔

شوہر کی جانب سے ایک سابقہ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا تھا، تاہم کرناٹک ہائی کورٹ نے اس معاملے کو موجودہ مقدمے سے مختلف قرار دیا۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ دہلی کے مقدمے میں شادی خود اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت انجام دی گئی تھی، جبکہ موجودہ معاملے میں نکاح پہلے ہی مسلم پرسنل لا کے مطابق ہوچکا تھا اور بعد میں صرف اس کی رجسٹریشن اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہوئی تھی۔ اسی لیے دونوں معاملات کو یکساں نہیں سمجھا جاسکتا۔

یہ فیصلہ اس قانونی فرق کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت براہ راست شادی کرنے والے جوڑے اور پہلے سے مذہبی یا شخصی قانون کے تحت انجام دی گئی شادی کو بعد میں اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹر کرانے والے جوڑے کی قانونی صورت حال ایک جیسی نہیں ہوتی۔

حال ہی میں کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک دوسرے مقدمے میں قرار دیا تھا کہ اگر کوئی مسلم شخص اپنی پہلی شادی برقرار رہنے کے دوران دوسری شادی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت انجام دیتا ہے تو ایسی دوسری شادی قانونی طور پر باطل ہوگی۔ عدالت نے اس معاملے میں واضح کیا تھا کہ جو فریق اسپیشل میرج ایکٹ کا انتخاب کرتے ہیں، وہ اس قانون کی لازمی شرائط کے پابند ہوتے ہیں اور بعد میں اپنی شخصی قانون کی بنیاد پر ایسی شادی کو جائز قرار نہیں دے سکتے۔

موجودہ فیصلے میں کرناٹک ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی اپیل مسترد کردی اور قرار دیا کہ محض اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹریشن سے شریعت کے مطابق انجام دیے گئے نکاح کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں