پیدائش کا سرٹیفکیٹ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، زمین کے ریکارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات پیش کیے گئے لیکن ساحیدہ فقیری کو رات ایک بجے سرحد پار بنگلہ دیش دھکیل دیا گیا! شوہر اور دو بیٹے ہندوستان میں بے یار و مددگار

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ خاتون ساحیدہ فقیری کو مبینہ طور پر بنگلہ دیشی ’درانداز‘ قرار دے کر نوی ممبئی پولیس کی حراست میں لیے جانے اور بعد ازاں بنگلہ دیش کی سرحد کے پار دھکیل دیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ساحیدہ کی بھارتی شہریت اور شناخت ثابت کرنے کے لیے پیدائش کا سرٹیفکیٹ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، زمین کے ریکارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات پیش کیے گئے تھے، اس کے باوجود انہیں مبینہ طور پر بھارت واپس آنے کا موقع دیے بغیر بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔

یہ معاملہ انسانی حقوق کی تنظیم (MASUM) کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی اعتراضات کے بعد مزید سنگین ہوگیا ہے۔ مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تنظیم نے ساحیدہ کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری، من مانی حراست اور بغیر کسی قانونی عمل کے انہیں ’بنگلہ دیشی‘ قرار دیے جانے پر کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ساحیدہ فقیری کا تعلق مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے سواروپن نگر علاقے سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے شوہر جمان فقیری کے مطابق ساحیدہ 18 جولائی کو نوی ممبئی کے سانپادا علاقے میں واقع ایک بازار میں رات کے کھانے کے لیے ضروری سامان خریدنے گئی تھیں، جہاں پولیس نے انہیں مبینہ طور پر حراست میں لے لیا۔

ساحیدہ کے شوہر اور ان کے دو بیٹے ہندوستان میں ہی موجود ہیں۔ ان کا چھوٹا بیٹا ساتویں جماعت میں زیر تعلیم ہے، جبکہ بڑا بیٹا موبائل فون کی مرمت کا کام کرتا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ساحیدہ کی اچانک گرفتاری کے بعد انہوں نے حکام کو بارہا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ بھارتی شہری ہیں اور مغربی بنگال میں ان کا آبائی خاندان کئی نسلوں سے مقیم ہے۔

جمان فقیری کے مطابق، اہل خانہ نے چیمبور کے ایک حراستی مرکز میں ساحیدہ کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ، اسکول سرٹیفکیٹ، والدین کی زمین کے کاغذات اور دیگر شناختی دستاویزات حکام کے سامنے پیش کیے۔ لیکن خاندان کے مطابق، تقریباً تین دن بعد انہیں اطلاع دی گئی کہ ساحیدہ کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔

جمان فقیری نے انڈین ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ ان کے اور ساحیدہ دونوں کے خاندان سواروپن نگر سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے ممبئی میں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی انہیں اپنی شہریت کے حوالے سے ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ساحیدہ نے بنگلہ دیش کے ضلع ساتکھیرا سے فون پر انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر آسام کی سرحد کے قریب رات تقریباً ایک بجے بنگلہ دیش کی جانب دھکیل دیا گیا۔ ان کے مطابق، سرحد پار پہنچنے کے بعد انہوں نے کئی گھنٹوں تک کیچڑ بھرے کھیتوں سے پیدل سفر کیا اور تقریباً آٹھ گھنٹے بعد ایک سڑک تک پہنچ سکیں۔

ساحیدہ کے مطابق، بنگلہ دیش میں مقامی لوگوں نے انہیں کھانا، کپڑے اور رہنے کے لیے جگہ فراہم کی۔ تاہم وہ اپنے خاندان کے پاس بھارت واپس جانے کی خواہش رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارتی شہری ہیں اور صرف اپنے گھر واپس جانا چاہتی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا خدشہ اپنے بچوں کے حوالے سے ہے، بالخصوص ساتویں جماعت میں زیر تعلیم اپنے چھوٹے بیٹے کے بارے میں کہ آخر اس کی دیکھ بھال کون کرے گا۔

مکتوب میڈیا کے مطابق، انسانی حقوق کی تنظیم MASUM کی جانب سے کلکتہ ہائی کورٹ کو بھیجی گئی درخواست میں ساحیدہ کی بھارتی شناخت اور شہریت کے حوالے سے متعدد دستاویزات کا ذکر کیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق ساحیدہ کے والد امان الدین غازی اور والدہ مجیدہ بی بی شمالی 24 پرگنہ کے سواروپن نگر علاقے کے گوبنداپور گاؤں کے رہائشی تھے۔ ان کے نام 2002 کی انتخابی فہرست میں سواروپن نگر اسمبلی حلقے کے حصہ نمبر 89 میں درج تھے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ساحیدہ کی پیدائش بھی سرکاری طور پر درج ہوئی تھی۔ ان کی پیدائش 12 اکتوبر 1995 کو بٹھاری حکیم پور گرام پنچایت کے ذریعے رجسٹر کی گئی تھی۔ اسی طرح ان کے والد امان الدین غازی کی موت کا اندراج بھی مغربی بنگال حکومت کے محکمہ صحت کے ریکارڈ میں موجود بتایا گیا ہے۔

درخواست میں ساحیدہ کے دیگر سرکاری دستاویزات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں:
* ووٹر شناختی کارڈ (EPIC)
* محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے جاری کردہ PAN کارڈ
* سرکاری پیدائش کا سرٹیفکیٹ
* سواروپن نگر میں ان کے نام پر درج زمین کے ریکارڈ شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ساحیدہ کی شناخت، خاندانی پس منظر اور بھارتی شہریت کے حوالے سے اہم سرکاری شواہد موجود ہیں۔ MASUM نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ساحیدہ کو حراست میں لیے جانے کے بعد تقریباً 90 گھنٹے تک کسی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ انہیں نہ تو مبینہ گرفتاری کی قانونی وجوہات سے آگاہ کیا گیا، نہ مناسب قانونی مدد فراہم کی گئی اور نہ ہی اہل خانہ سے رابطے کی مناسب سہولت دی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق، کسی شخص کو صرف شبہ، زبان، لباس، نام یا علاقائی پس منظر کی بنیاد پر غیر ملکی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے لیے باقاعدہ قانونی طریقۂ کار اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ ضروری ہے۔

MASUM کے سکریٹری کیرتی رائے نے مبینہ کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی حکام کو محض شبہ یا پروفائلنگ کی بنیاد پر کسی فرد کو غیر ملکی قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔ کیرتی رائے کے مطابق، اگر کسی شہری کو گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیر، مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے بغیر اور اس کے فراہم کردہ دستاویزات کی مکمل جانچ کیے بغیر حراست میں رکھا جاتا ہے تو یہ آئینی تحفظات کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

ان کے مطابق ساحیدہ کا معاملہ اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ خاندان کی جانب سے متعدد سرکاری دستاویزات پیش کیے جانے کے باوجود ان کی شہریت پر حتمی قانونی فیصلہ کیے بغیر انہیں مبینہ طور پر ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔

ساحیدہ نے بتایا کہ ان کے خاندان نے مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر کے دوران مطلوبہ دستاویزات جمع کرائے تھے اور سماعت کے عمل میں بھی حصہ لیا تھا۔ ان کے مطابق ان کے تین بہن بھائیوں کے نام ووٹر فہرست میں موجود ہیں، جبکہ ان کا اپنا نام اور ایک بہن کا نام فی الحال متعلقہ ٹریبونل کے سامنے زیر غور ہے۔

یہ پہلو اس معاملے کو مزید اہم بنا دیتا ہے، کیونکہ ایک جانب ریاست میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جانچ کا عمل جاری ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے افراد کے خلاف شہریت سے متعلق کارروائیوں کے الزامات سامنے آرہے ہیں جو خود کو مغربی بنگال کے مستقل رہائشی اور بھارتی شہری قرار دیتے ہیں۔

ساحیدہ کے آبائی خاندان سے تعلق رکھنے والے گوبنداپور گاؤں کے مقامی باشندوں نے بھی معاملے میں مداخلت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست کو گاؤں کے لوگوں نے شمالی 24 پرگنہ کے ضلع مجسٹریٹ کو ایک خط لکھ کر ساحیدہ کو فوری طور پر بنگلہ دیش سے واپس لانے کی اپیل کی۔ مقامی باشندوں نے خط میں کہا کہ ساحیدہ ان کے گاؤں کی مستقل رہائشی ہیں اور نہ صرف وہ بلکہ ان کا پورا خاندان کئی نسلوں سے گاؤں کے لوگوں کے لیے معروف ہے۔

مغربی بنگال کے Migrant Labourer Unity Forum (Parijayee Shramik Aikya Mancha) نے بھی اس معاملے میں مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے 8 اگست کو وزارت خارجہ کو خط لکھ کر ساحیدہ کی دستاویزات کی تصدیق کرنے اور اگر ان کی بھارتی شہریت ثابت ہوتی ہے تو انہیں بھارت واپس لانے کے لیے ضروری سفارتی اقدامات کرنے کی درخواست کی۔

اب ساحیدہ کے اہل خانہ بھی کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ان کی بھارتی شہریت کے ثبوت عدالت کے سامنے پیش کیے جاسکیں اور انہیں بنگلہ دیش سے واپس بھارت لانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جاسکے۔ ساحیدہ فقیری کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے کئی بنگالی بولنے والے مزدوروں اور شہریوں کو ملک کے مختلف حصوں میں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی قرار دے کر حراست میں لینے اور سرحد پار بھیجنے کے واقعات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

2025 میں بھی مغربی بنگال کے متعدد افراد کو دہلی اور ممبئی میں حراست میں لیے جانے کے بعد بنگلہ دیش بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بعد میں قانونی مداخلت اور مغربی بنگال حکومت کی جانب سے شہریت کے ثبوت پیش کیے جانے کے بعد بعض افراد کو واپس بھارت لایا گیا۔

مثلاً 2025 میں محبوب شیخ نامی مغربی بنگال کے ایک مزدور کو مہاراشٹر میں حراست میں لے کر بنگلہ دیش بھیجے جانے کے بعد واپس بھارت لایا گیا تھا۔ بعد میں ان کا نام مغربی بنگال کی انتخابی فہرست میں بھی شامل ہوا۔ Scroll کی تحقیقات کے مطابق ایسے بعض معاملات میں حکام نے وزارت داخلہ کے طے کردہ تصدیقی طریقۂ کار کی مکمل پابندی نہیں کی تھی۔

اسی طرح 2025 میں مغربی بنگال کے چار افراد کو بنگلہ دیش بھیجے جانے کے بعد مغربی بنگال پولیس کی جانب سے ان کی بھارتی شہریت کے ثبوت فراہم کیے گئے، جس کے بعد انہیں واپس بھارت لایا گیا تھا۔ ساحیدہ فقیری کے معاملے نے ایک بنیادی سوال دوبارہ کھڑا کردیا ہے: کسی شخص کو غیر ملکی قرار دینے سے پہلے اس کی شہریت کے دعوے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ جانچ کس طرح کی جائے؟

ہندوستانی شہری ہونے کا دعویٰ کرنے والے کسی شخص کے پاس اگر پیدائش کا سرٹیفکیٹ، ووٹر ریکارڈ، زمین کے دستاویزات اور دیگر سرکاری ریکارڈ موجود ہوں تو ان کی تصدیق کے لیے متعلقہ ریاستی حکومت اور ضلعی حکام سے معلومات حاصل کرنا قانونی عمل کا اہم حصہ ہوسکتا ہے۔

Scroll کی گزشتہ تحقیقات میں بھی ایسے معاملات کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے آبائی ضلع سے شہریت کی تصدیق مکمل ہونے سے پہلے ہی سرحد پار بھیج دیا گیا۔ ساحیدہ فقیری اس وقت بنگلہ دیش کے ساتکھیرا میں ایک مقامی خاندان کے یہاں مقیم ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں، جبکہ ان کے شوہر اور دونوں بچے بھارت میں ہیں۔

خاندان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ ساحیدہ ایک بھارتی شہری ہیں اور انہیں قانونی طریقۂ کار کے بغیر ملک سے باہر نہیں بھیجا جانا چاہیے تھا۔ اب اہل خانہ عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت اور وزارت خارجہ سے بھی مداخلت کی امید کر رہے ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس معاملے کو شہری آزادی، آئینی تحفظات اور مناسب قانونی طریقۂ کار کے سوال کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ساحیدہ فقیری کا معاملہ محض ایک خاندان کی پریشانی نہیں بلکہ اس بڑے سوال سے بھی جڑا ہے کہ شہریت کے شبہ کی بنیاد پر کسی فرد کے خلاف کارروائی کرتے وقت کیا قانونی ضمانتوں، دستاویزی ثبوتوں اور عدالتی نگرانی کو مکمل طور پر ملحوظ رکھا جارہا ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب قانونی کارروائی اور متعلقہ حکام کی دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں