حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں 17 طلبا کا گانجہ ٹیسٹ مثبت!

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے کیمپس میں مبینہ طور پر گانجا کے استعمال اور سپلائی کے خلاف تلنگانہ کی EAGLE فورس اور مقامی پولیس نے کارروائی کی ہے۔ کارروائی کے دوران متعدد طلبہ کے ڈرگ ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 17 طلبا کے گانجہ استعمال کے لیے مثبت پائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس مخصوص کارروائی سے متعلق پولیس یا یونیورسٹی کی باضابطہ تفصیلی تصدیق فی الحال دستیاب نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق، حکام کو یونیورسٹی کیمپس میں گانجا کے استعمال کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد EAGLE ٹیم اور مقامی پولیس نے مشترکہ طور پر کارروائی کی۔ مشتبہ طلبہ کی موقع پر ہی ڈرگ اسکریننگ کی گئی، جس کے نتائج میں 17 طلبہ کے ٹیسٹ مبینہ طور پر مثبت آئے۔

کارروائی کے دوران پولیس نے ایک مبینہ ڈرگ پیڈلر کو بھی حراست میں لیا ہے۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص آسام سے گانجا لاکر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے بعض طلبہ کو فروخت کرتا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران دعویٰ کیا کہ وہ گانجا تقریباً 500 روپے فی گرام کے حساب سے فروخت کرتا تھا۔ پولیس اس کے دعوے اور منشیات کی سپلائی کے پورے نیٹ ورک کی مزید جانچ کررہی ہے۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ گانجا آسام سے حیدرآباد لایا جاتا تھا اور اس کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ تک پہنچایا جاتا تھا۔ اگر یہ دعویٰ تفتیش میں درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ صرف کیمپس میں منشیات کے استعمال تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بین الریاستی سپلائی چین کی تحقیقات بھی اہم ہوجائیں گی۔

پولیس کی جانب سے مبینہ سپلائی کے ذرائع، دیگر ممکنہ ملزمان، مالی لین دین اور طلبہ تک منشیات پہنچانے کے طریقہ کار کی جانچ کی جارہی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے منشیات کی روک تھام کے لیے Elite Action Group for Drug Law Enforcement (EAGLE) قائم کی ہے۔ فورس منشیات کی سپلائی، استعمال اور بین الریاستی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم بھی چلاتی ہے۔ اس کی سرکاری ویب سائٹ پر مختلف منشیات مخالف کارروائیوں، گرفتاریوں اور ضبطیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

حیدرآباد میں اس سے قبل بھی EAGLE اور پولیس نے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کے خلاف منشیات کے معاملات میں کارروائیاں کی ہیں۔ 2025 میں ایک نجی یونیورسٹی سے جڑے معاملے میں EAGLE حکام نے منشیات سپلائی کے الزام میں افراد کو گرفتار کیا تھا اور کئی طلبہ کو تفتیش کے دائرے میں لایا گیا تھا۔

تعلیمی اداروں میں منشیات کی موجودگی کا معاملہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ، والدین اور طلبہ کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ گانجا سمیت منشیات کی غیر قانونی خرید و فروخت NDPS Act کے تحت قابلِ تعزیر معاملہ ہوسکتی ہے، جبکہ منشیات کے استعمال کے حوالے سے بھی قانونی کارروائی کے مخصوص ضوابط موجود ہیں۔

یونیورسٹی کیمپس میں اگر منشیات کی سپلائی کا نیٹ ورک موجود ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو پولیس کے لیے یہ معلوم کرنا اہم ہوگا کہ سپلائی کہاں سے شروع ہوئی، اسے کیمپس تک کون پہنچا رہا تھا اور اس میں کتنے افراد ملوث تھے۔

پولیس اور EAGLE فورس کی جانب سے مبینہ طور پر گرفتار کیے گئے شخص سے پوچھ گچھ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ممکنہ طور پر موبائل فون ریکارڈ، مالی لین دین اور منشیات کی سپلائی سے متعلق رابطوں کی بھی جانچ کی جائے گی۔

17 طلبا کے گانجہ ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاع اگر باضابطہ تفتیش میں بھی ثابت ہوتی ہے تو یہ حیدرآباد کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرے گی۔ تاہم طلبا کے حوالے سے حتمی قانونی نتیجہ متعلقہ تفتیش، میڈیکل/فارنسک جانچ اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں