حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی اہم فلاحی اسکیموں ’کلیان لکشمی‘ اور ’شادی مبارک‘ کے تحت ہونے والی مالی ادائیگیوں پر اگلی سماعت تک روک لگا دی ہے۔ عدالت نے یہ عبوری حکم ایک درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا، جس میں ان اسکیموں کے قانونی جواز پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
جسٹس شرون کمار نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ اگلی سماعت تک ان دونوں اسکیموں کے تحت کسی قسم کی ادائیگی نہ کی جائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے 9 ستمبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وکیل وجے گوپال نے ان فلاحی اسکیموں کے نفاذ کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار کی جانب سے بنیادی طور پر یہ دلیل پیش کی گئی کہ جن اسکیموں کے لیے قانون ساز اداروں میں ضروری قرارداد یا قانونی منظوری موجود نہ ہو، انہیں اس طریقے سے نافذ نہیں کیا جاسکتا۔
درخواست گزار نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی رکھا کہ اس معاملے میں حکومت کو اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن گزشتہ سماعت کے بعد چار ہفتے گزرنے کے باوجود حکومت نے اپنا کاؤنٹر داخل نہیں کیا۔
اسی پس منظر میں عدالت نے اسکیموں کے تحت مزید ادائیگیوں پر عبوری روک عائد کرتے ہوئے معاملے کی آئندہ سماعت 9 ستمبر کو مقرر کردی۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کی بیٹیوں کی شادی کے اخراجات میں مالی مدد فراہم کرنا ہے۔
سرکاری معلومات کے مطابق یہ دونوں اسکیمیں 2 اکتوبر 2014 سے نافذ ہیں۔ کلیان لکشمی کے تحت مختلف مستحق طبقات اور شادی مبارک کے تحت اقلیتی خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق ان اسکیموں کا بنیادی مقصد مالی طور پر کمزور خاندانوں کو بیٹی کی شادی کے وقت ایک مرتبہ مالی امداد فراہم کرکے ان پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
ہائی کورٹ کے عبوری حکم کی وجہ سے ان خاندانوں کے لیے تشویش پیدا ہوگئی ہے جن کی درخواستیں پہلے ہی منظور ہوچکی ہیں یا جو اسکیم کے تحت مالی امداد ملنے کے منتظر ہیں۔ کلیان لکشمی اور شادی مبارک گزشتہ کئی برسوں سے تلنگانہ میں غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اہم مالی معاونت کا ذریعہ رہی ہیں۔ رواں مالی سال میں بھی اقلیتی بہبود کے محکمے نے شادی مبارک کے لیے بجٹ مختص کیا ہے، جبکہ مختلف طبقات کے مستحقین کلیان لکشمی کے ذریعے مالی امداد حاصل کرتے ہیں۔
ہائی کورٹ نے حکومت کو اپنے موقف کی وضاحت کے لیے جواب داخل کرنے کا موقع دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری عبوری حکم حتمی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ مقدمے کی اگلی سماعت تک ادائیگیوں پر عارضی پابندی ہے۔ اب حکومت کی جانب سے عدالت میں اپنا تفصیلی جواب داخل کیے جانے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ان اسکیموں کے قانونی جواز اور ان کے لیے اختیار کیے گئے طریقۂ کار کے بارے میں حکومت کیا مؤقف پیش کرتی ہے۔
ہائی کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت 9 ستمبر 2026 کو مقرر کی ہے۔ اس سماعت میں حکومت کے جواب اور درخواست گزار کے اعتراضات کی بنیاد پر عدالت مزید احکامات جاری کرسکتی ہے۔ یوں فی الحال کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیمیں ختم نہیں کی گئی ہیں، بلکہ عدالت نے صرف اگلی سماعت تک ان کے تحت مالی ادائیگیوں پر عبوری روک لگائی ہے۔ اسکیموں کے مستقبل اور ادائیگیوں کی بحالی سے متعلق حتمی صورتِ حال آئندہ عدالتی کارروائی کے بعد واضح ہوگی۔


