حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ’’فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ‘‘ کے استعمال سے متعلق پیدا ہونے والی الجھن کے درمیان انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس سرٹیفکیٹ کو ووٹر کی اہلیت کا حتمی اور قطعی ثبوت نہیں سمجھا جائے گا۔ انتخابی حکام اس دستاویز کو دیگر متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ جانچ کے بعد ہی فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
تلنگانہ حکومت نے 25 جولائی کو جاری حکمنامہ GO No. 172 کے ذریعہ ریاست بھر میں ایک الیکٹرانک ’’تلنگانہ فیملی رجسٹر‘‘ قائم کرنے اور می سیوا کے ذریعے فیملی رجسٹر سرٹیفیکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس رجسٹر میں خاندان کے سربراہ اور ارکان کے نام، باہمی رشتہ، عمر، تاریخ پیدائش، جنس، آدھار کی تفصیلات اور موجودہ پتہ شامل کیا جاتا ہے۔
حکومت کے مطابق فیملی رجسٹر کی بنیادی معلومات فوڈ سکیورٹی کارڈ یعنی راشن کارڈ کے ڈیٹا بیس سے حاصل کی جارہی ہیں۔ فیملی رجسٹر کا شناختی نمبر بھی متعلقہ خاندان کے راشن کارڈ نمبر کے برابر رکھا گیا ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ بنیادی طور پر خاندان کی ساخت اور ارکان کی تفصیلات کا ریکارڈ ہے۔ اس سے خود بخود کسی شخص کے جائیداد کے حق، قانونی وارث ہونے یا سرکاری اسکیموں سے فائدہ حاصل کرنے کا حق ثابت نہیں ہوتا۔
فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کے بارے میں اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے حتمی شہریت یا ووٹر اہلیت کا فیصلہ کرنے والی دستاویز نہیں سمجھا جائے گا۔ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سی سدھارشن ریڈی نے وضاحت کی تھی کہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ ایس آئی آر کی جانچ کے دوران پیش کیے جانے والے 12 دستاویزات میں شامل ہوسکتا ہے، لیکن اسے دیگر معاون ریکارڈ کے ساتھ جانچا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ یہ سرٹیفکیٹ فوڈ سکیورٹی کارڈ کے ڈیٹا سے تیار ہوتا ہے، اس لیے اسے اکیلے فیصلہ کن ثبوت نہیں مانا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر الیکٹورل رجسٹریشن افسر مزید دستاویزات بھی طلب کرسکتا ہے۔
اس وضاحت کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کو راشن کارڈ کا متبادل حتمی شہادت نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اس کی معلومات کی بھی دیگر ریکارڈ کے ساتھ تصدیق کی جاسکتی ہے۔ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کے اجرا کے اعلان کے بعد ریاست میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اس کے لیے درخواستیں دیں۔ تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 لاکھ افراد اس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔
بڑی تعداد میں درخواستوں کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ ایس آئی آر کے دوران بعض ووٹروں کو اپنے اور والدین کے پیدائش یا متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ ایسے خاندانوں کے لیے ایک ہی سرٹیفکیٹ میں متعدد ارکان کی بنیادی معلومات کا موجود ہونا نسبتاً آسانی فراہم کرسکتا ہے۔
فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کے اجرا پر سیاسی بحث بھی شروع ہوگئی تھی۔ تلنگانہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ ایس آئی آر کے دوران ان سرٹیفکیٹس کو قبول نہ کیا جائے۔ پارٹی نے اعتراض کیا کہ چونکہ فیملی رجسٹر بنیادی طور پر راشن کارڈ کے ڈیٹا سے تیار کیا جارہا ہے، اس لیے اسے ووٹر فہرستوں کی جانچ میں احتیاط کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب تلنگانہ حکومت نے اسے شہریوں کے لیے ایک سہولت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خاندان کی تفصیلات کا ایک مستند اور آسانی سے دستیاب ریکارڈ فراہم کرنا ہے۔ ریاستی حکومت نے فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے می سیوا مراکز کے علاوہ آن لائن سہولت بھی فراہم کی ہے۔ متعلقہ خاندان کا بالغ رکن راشن کارڈ نمبر کی بنیاد پر درخواست دے سکتا ہے، جبکہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے عمل میں متعلقہ تحصیلدار کی توثیق شامل ہے۔
SIR کے دوران جن ووٹروں کو اپنی اہلیت یا دستاویزات کے حوالے سے نوٹس ملتا ہے، ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ صرف فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ پر انحصار نہ کریں بلکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے قابلِ قبول دیگر متعلقہ دستاویزات بھی تیار رکھیں۔
یوں موجودہ صورتحال کا خلاصہ یہ ہے کہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کو یکسر بے کار قرار نہیں دیا گیا، لیکن اسے اکیلا اور حتمی ثبوت بھی نہیں مانا جائے گا۔ انتخابی افسران ضرورت کے مطابق اس میں درج معلومات کو دیگر دستاویزات سے ملائیں گے اور اس کے بعد ووٹر کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔


