مظفر نگر فسادات: 25 بی جے پی لیڈروں اور ہندو کارکنوں کے خلاف کیس واپس لینے کی عدالت نے اجازت دے دی، بے قصوروں کو سزا اور ملزمین کو رعایت! کیا یہی انصاف ہے؟

حیدرآباد (دکن فائلز) 2013 کے مظفر نگر فسادات سے متعلق ایک اہم مقدمے میں خصوصی ایم پی ایم ایل اے عدالت نے 25 بی جے پی رہنماؤں اور ہندو کارکنوں کے خلاف زیر سماعت مقدمہ واپس لینے کی استغاثہ کی درخواست منظور کرلی ہے۔ مقدمے میں اتر پردیش کے وزیر کپل دیو اگروال، سابق مرکزی وزیر سنجیو بالیان، سابق ریاستی وزیر سریش رانا اور دیگر معروف سیاسی و مذہبی شخصیات شامل تھیں۔

یہ مقدمہ 31 جولائی 2013 کو نگلا مڈور میں منعقدہ ایک مہاپنچایت سے متعلق تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمین پر ممنوعہ احکامات کی خلاف ورزی، سرکاری ملازمین کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور ایسی تقاریر کرنے کے الزامات تھے جن سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے فیصلے کے بعد سرکاری وکیل نے عدالت سے کارروائی ختم کرنے کی اجازت مانگی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مقدمہ واپس لینے کی اجازت کو ملزمین کی عدالتی بریت یا الزامات کے غلط ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ عدالت نے اس مخصوص مقدمے میں استغاثہ کو مقدمہ واپس لینے کی اجازت دی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ 2013 کے فسادات کے دوران اور بعد میں انصاف کے عمل پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

مقدمے میں اتر پردیش کے وزیر کپل دیو اگروال، سابق مرکزی وزیر سنجیو بالیان، سابق ریاستی وزیر سریش رانا، سابق وزیر اشوک کٹاریہ، سابق بی جے پی ارکان پارلیمنٹ بھرتیندو سنگھ اور سوہن ویر سنگھ، سابق ارکان اسمبلی اشوک کنسل اور امیش ملک، وی ایچ پی رہنما سادھوی پراچی اور داسنا شیو مندر سے وابستہ نرسنگھانند سمیت دیگر افراد شامل تھے۔

یہ وہ دور تھا جب مغربی اتر پردیش میں فرقہ وارانہ کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی اور مظفر نگر اور شاملی کے متعدد دیہات تشدد کی لپیٹ میں آگئے تھے۔ 2013 کے مظفر نگر فسادات کا سب سے المناک پہلو یہ تھا کہ تشدد کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مسلم خاندان اپنے آبائی گھروں سے بے گھر ہوئے۔ مختلف سرکاری اور آزاد ذرائع کے اعداد و شمار کے مطابق فسادات میں کم از کم 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 50 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے۔ ان بے گھر ہونے والوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ انڈین ایکسپریس نے ایک سال بعد رپورٹ کیا تھا کہ فسادات کے نتیجے میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمان اپنے گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ 50,955 افراد نے فسادات کے دوران قائم کیے گئے 58 ریلیف کیمپوں میں پناہ لی تھی۔ تقریباً 10 ہزار افراد بعد میں بھی کیمپوں میں مقیم تھے جبکہ مظفر نگر کے چھ متاثرہ دیہات کے خاندان اپنے گھروں کو واپس جانے پر آمادہ نہیں تھے۔ سرکاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ان خاندانوں کا فیصلہ ان علاقوں میں ہونے والے قتل اور آتش زنی کے واقعات کے خوف کے باعث جائز معلوم ہوتا ہے۔

فسادات کے دوران متعدد مسلم آبادیوں میں گھروں کو آگ لگانے، لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق متعدد دیہات میں سینکڑوں مکانات جلائے گئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مظفر نگر، شاملی اور آس پاس کے علاقوں میں بے گھر خاندانوں کی بحالی کے لیے ریاستی حکومت نے پانچ لاکھ روپے فی خاندان کی یکمشت امداد کا فیصلہ کیا۔ بعد میں ہزاروں خاندانوں کو اس اسکیم کے تحت مالی مدد دی گئی۔

تاہم مالی امداد ملنے کے باوجود بہت سے مسلمان اپنے آبائی علاقوں میں واپس نہیں جا سکے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق کئی مسلم خاندانوں نے خوف اور عدم تحفظ کے باعث اپنی جائیدادیں بازار کی قیمت سے کہیں کم پر فروخت کردیں۔ بعض علاقوں میں گھروں اور زمینوں کی ایسی فروخت سامنے آئی جسے متاثرہ خاندانوں کی مجبوری سے جوڑا گیا۔

فسادات کے کئی سال بعد بھی بڑی تعداد میں مسلم خاندان اپنے آبائی دیہات میں واپس نہیں لوٹے۔ ایک تفصیلی مطالعے میں بتایا گیا کہ مظفر نگر اور شاملی میں ہزاروں متاثرہ خاندانوں نے نئے مسلم اکثریتی علاقوں میں نئی بستیاں آباد کیں۔ انڈین ایکسپریس میں شائع ایک تفصیلی جائزے کے مطابق فسادات کے نتیجے میں کم از کم 50 ہزار افراد مستقل طور پر اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل ہوئے، جبکہ 65 نئی متاثرہ بستیوں میں تقریباً 29,328 افراد کی موجودگی کا سروے کیا گیا۔ ان نئی بستیوں میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی بھی پائی گئی۔

یعنی فسادات کا نقصان صرف جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ہزاروں خاندانوں سے ان کے گھر، زمین، روزگار، سماجی تعلقات اور کئی نسلوں سے آباد آبائی ماحول بھی چھین لیا۔ فسادات کے بعد اتر پردیش حکومت نے مظفر نگر اور شاملی کے نو دیہات سے تعلق رکھنے والے 1800 مسلم خاندانوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے کی یکمشت امداد کا اعلان کیا۔ یہ وہ خاندان تھے جو خوف کے باعث اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

حکومت نے ان خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری کے لیے مجموعی طور پر 90 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔یہ اعداد و شمار خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متاثرین کے لیے مسئلہ محض عارضی بے گھری کا نہیں تھا بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے اپنے آبائی گاؤں واپس جانا عملاً ممکن نہیں رہا تھا۔

مظفر نگر فسادات سے متعلق یہ تازہ عدالتی پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ فسادات کے بعد درج ہونے والے متعدد مقدمات میں برسوں تک کارروائی جاری رہی، جبکہ کئی مقدمات میں ملزمین ثبوتوں کی کمی یا گواہوں کے منحرف ہونے کے باعث بری بھی ہوئے۔

2014 میں انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا تھا کہ فسادات کے ایک سال بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر تھے اور 567 ایف آئی آرز کے باوجود کارروائی کی رفتار انتہائی سست تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 25 سیاسی رہنماؤں اور ہندو کارکنوں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی اجازت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ فسادات میں جان و مال سے محروم ہونے والے متاثرین کو مکمل انصاف کب ملے گا۔

دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر فسادات میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، سیکڑوں مکانات اور املاک تباہ ہوئیں اور بڑی تعداد میں مسلمان اپنے آبائی علاقوں سے مستقل طور پر محروم ہوگئے، تو ان متاثرین کے لیے انصاف کا معیار کیا ہوگا؟

جب ایک طرف فسادات کے متاثرین آج بھی اپنے گھروں اور زمینوں سے دور زندگی گزار رہے ہوں اور دوسری طرف سیاسی طور پر بااثر افراد کے خلاف مقدمات واپس لیے جانے کی خبریں سامنے آئیں تو عوام کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا قانون سب کے لیے یکساں ہے؟ کیا متاثرین کے زخموں اور ان کے حق انصاف کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جارہی ہے؟

یہی وہ بنیادی سوال ہے جو مظفر نگر کے تازہ معاملے کے بعد ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔

مظفر نگر فسادات سے متعلق یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بی جے پی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی عدالتی اجازت دی گئی ہو۔ 2021 میں خصوصی ایم پی ایم ایل اے عدالت نے ریاستی حکومت کی درخواست پر بی جے پی رہنماؤں سریش رانا، سنگیت سوم، بھرتیندو سنگھ اور وی ایچ پی رہنما سادھوی پراچی کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق ایک مقدمہ واپس لینے کی اجازت دی تھی۔

اسی عرصے میں سپریم کورٹ کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا کہ اتر پردیش حکومت نے مظفر نگر فسادات سے متعلق بڑی تعداد میں مقدمات واپس لینے کی کارروائی کی تھی۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 510 مقدمات میں 6,869 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا، جبکہ متعدد مقدمات میں چارج شیٹ اور حتمی رپورٹیں داخل کی گئی تھیں۔

مظفر نگر فسادات کو 13 سال گزر چکے ہیں، لیکن اس سانحے کے زخم آج بھی مکمل طور پر مندمل نہیں ہوئے۔ بہت سے مسلم خاندان اپنے آبائی گاؤں واپس نہیں لوٹے، کئی خاندانوں نے نئی بستیاں آباد کیں اور متعدد متاثرین نے اپنی جائیدادیں چھوڑ دیں یا فروخت کردیں۔

ریاستی اور عدالتی ریکارڈ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت نے متاثرین کے لیے مالی امداد اور بحالی کے اقدامات کیے، لیکن مالی معاوضہ کسی خاندان سے چھینا گیا گھر، زمین، روزگار اور آبائی ماحول واپس نہیں لا سکتا۔

مظفر نگر فسادات کے اس مقدمے میں 25 بی جے پی رہنماؤں اور ہندو کارکنوں کے خلاف کارروائی واپس لینے کی اجازت نے ایک بار پھر انصاف کے عمل پر بحث چھیڑ دی ہے۔ عدالت کا حکم اپنی جگہ، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جن خاندانوں نے اس تشدد میں اپنے پیاروں، گھروں اور جائیدادوں کو کھویا، ان کے لیے مکمل اور غیر جانب دار انصاف کب یقینی بنایا جائے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں