حیدرآباد (دکن فائلز) سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور جسونت نگر سے رکن اسمبلی شیوپال سنگھ یادو نے پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم اعظم خان سے جیل میں ملاقات کے بعد بڑا سیاسی بیان دیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی تیاری کریں اور سماجوادی پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے پوری طاقت سے کام کریں۔
شیوپال یادو نے کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا کہ اگر اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کو وزیر داخلہ جیسے اہم عہدے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں نئی قیاس آرائیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔
شیوپال سنگھ یادو بدھ کے روز ایک روزہ دورے پر رام پور پہنچے۔ سماجوادی پارٹی کے کارکنوں نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد وہ رام پور ضلع جیل گئے اور وہاں اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم سے ملاقات کی۔
رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے ساتھ ان کی تقریباً 30 سے 60 منٹ تک گفتگو ہوئی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد شیوپال یادو اعظم خان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے اعظم خان کی اہلیہ تزئین فاطمہ سے بھی ملاقات کی۔ دونوں کے درمیان تقریباً آدھے گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔
اس کے بعد شیوپال یادو سماجوادی پارٹی کے دفتر پہنچے اور پارٹی کارکنوں سے ملاقات کرکے انہیں آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے متحرک ہونے کی اپیل کی۔ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شیوپال یادو نے کہا کہ پارٹی کے تمام کارکنوں کو متحد ہوکر 2027 کے اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کو کامیاب بنانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو شکست دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کو ابھی سے پوری طاقت کے ساتھ انتخابی تیاریوں میں مصروف ہوجانا چاہیے۔ اسی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو اعظم خان کو حکومت میں وزیر داخلہ جیسے اہم عہدے کی ذمہ داری دی جائے گی۔
شیوپال یادو کے اس بیان کو سماجوادی پارٹی میں اعظم خان کے سیاسی قد اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے ان کے ممکنہ کردار کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ جیل میں اعظم خان سے ملاقات کے حوالے سے شیوپال یادو نے کہا کہ اعظم خان نے ان سے پورے اتر پردیش میں سفر کرکے پارٹی کو مضبوط بنانے اور سماجوادی پارٹی کی حکومت قائم کرنے کے لیے کام کرنے کو کہا ہے۔
شیوپال یادو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اعظم خان کو جیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں بعض ضروری سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان مسائل کو مناسب فورم پر اٹھائیں گے۔ پارٹی کارکنوں سے ملاقات کے بعد شیوپال یادو محمد علی جوہر یونیورسٹی پہنچے، جہاں انہوں نے طلبہ اور طالبات سے ملاقات کی اور یونیورسٹی کے موجودہ حالات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
بعد ازاں انہوں نے یونیورسٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر اعظم خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر آئندہ سماجوادی پارٹی کی حکومت بنتی ہے اور کسی افسر یا ملازم نے یونیورسٹی کے ساتھ مبینہ طور پر ناانصافی کی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
شیوپال یادو نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کو بچانے کے لیے سماجوادی پارٹی متحد ہوکر کوشش کررہی ہے۔ سماجوادی پارٹی میں مبینہ طور پر دو گروپ بننے سے متعلق سوال پر شیوپال یادو نے اختلافات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کوئی پھوٹ نہیں ہے اور تمام رہنما اور کارکن متحد ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سماجوادی پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دے کر اتر پردیش میں حکومت بنائے گی۔ شیوپال یادو نے پارٹی کی سیاسی جدوجہد میں طلبہ اور نوجوانوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان اور طلبہ آگے آئیں گے تو جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر جاری تحریک کو مزید طاقت ملے گی۔
شیوپال یادو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اعظم خان کی سیاسی حیثیت اور سماجوادی پارٹی میں ان کے کردار کو لے کر مسلسل بحث جاری ہے۔ جیل میں ان سے ملاقات اور اس کے بعد انہیں ممکنہ طور پر وزیر داخلہ کا عہدہ دینے کی بات نے اتر پردیش کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


