ایڈووکیٹ خواجہ معز الدین قتل کیس: ملزم محبوب عالم خان کو ضمانت، بیٹے مجاہد عالم خان کی درخواست مسترد

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ ہائیکورٹ کے وکیل خواجہ معز الدین کے قتل کے معاملے میں نامزد دوسرے ملزم محبوب عالم خان کو نامپلی عدالت نے جمعرات کے روز ضمانت دے دی۔ ان کے وکیل مظفر کے مطابق عدالت نے ایک ایک لاکھ روپے کی دو ضمانتیں پیش کیے جانے کے بعد ضمانت منظور کی۔ تاہم ان کے بیٹے اور کیس کے مرکزی ملزم مجاہد عالم خان کو ضمانت نہیں دی گئی۔

یہ معاملہ حیدرآباد کے نامپلی پولیس اسٹیشن میں درج قتل کے مقدمے سے متعلق ہے۔ پولیس نے محبوب عالم خان کو کیس میں ملزم نمبر دو جبکہ ان کے بیٹے مجاہد عالم خان کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ دستیاب سابقہ عدالتی رپورٹوں کے مطابق محبوب عالم خان کی ضمانت کی درخواست جولائی میں بھی مسترد کی گئی تھی، اس لیے موجودہ ضمانت کا حکم مقدمے میں بعد کی عدالتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اس مقدمے میں نامپلی عدالت نے 3 اگست کو پولیس کی جانب سے دائر درخواست پر ملزمین کی دو روزہ پولیس تحویل کی اجازت دی تھی۔ پولیس نے عدالت سے یہ تحویل قتل کی مبینہ سازش، اس کے پس منظر اور دیگر متعلقہ معاملات کی مزید تفتیش کے لیے طلب کی تھی۔

تفتیش کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی، مالی لین دین اور قتل کے لیے افراد کی خدمات حاصل کیے جانے کے پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی۔ اس سے قبل پولیس نے عدالت کے سامنے یہ بھی مؤقف رکھا تھا کہ قتل کے معاملے میں مزید حقائق سامنے لانے کے لیے ملزمین سے پوچھ گچھ ضروری ہے۔

خواجہ معیز الدین کو 23 مئی 2026 کو حیدرآباد کے نامپلی علاقے میں اس وقت شدید زخمی کردیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر سے باہر نکل کر اپنی گاڑی کی طرف جارہے تھے۔ پولیس کے مطابق ایک تیز رفتار SUV نے انہیں ٹکر ماری۔ ابتدائی طور پر واقعے کو سڑک حادثہ سمجھا گیا، تاہم تحقیقات آگے بڑھنے کے بعد پولیس نے اسے مبینہ طور پر منصوبہ بند قتل قرار دیا۔ شدید زخمی حالت میں خواجہ معیز الدین کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

پولیس کی تحقیقات کے مطابق خواجہ معیز الدین اور محبوب عالم خان کے درمیان وقف املاک کے انتظام، کنٹرول اور مالی معاملات سے متعلق طویل عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا دعویٰ ہے کہ 2023 میں خواجہ معیز الدین کی جانب سے محبوب عالم خان کے خلاف وقف کمیٹی میں مالی بے ضابطگیوں سے متعلق شکایت بھی اس تنازع کا ایک اہم پہلو تھی۔ بعد میں کمیٹی میں تبدیلی ہوئی اور محبوب عالم خان کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ خواجہ معیز الدین نئی کمیٹی میں خزانچی بنے۔ پولیس نے اسی پس منظر کو مبینہ سازش کے محرکات میں شامل کیا ہے۔

تاہم یہ تمام نکات پولیس کی تحقیقات اور الزامات کا حصہ ہیں اور عدالت میں ان کا حتمی طور پر ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔ کسی بھی ملزم کو جرم ثابت ہونے تک قانوناً بے قصور تصور کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد پولیس نے مئی کے آخر میں خواجہ معیز الدین قتل کیس میں سات افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گرفتار افراد میں محبوب عالم خان، ان کے بیٹے مجاہد عالم خان اور دیگر افراد شامل تھے۔

پولیس کے مطابق مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف افراد کا استعمال کیا گیا۔ بعد کی تفتیش میں دو دیگر مبینہ معاونین کے مفرور ہونے اور ان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ قتل کے لیے مبینہ طور پر تقریباً 15 لاکھ روپے کی رقم دی گئی تھی۔ تاہم اس دعوے سمیت قتل کی سازش سے متعلق تمام الزامات کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔

محبوب عالم خان کو ضمانت ملنے کے باوجود ان کے بیٹے مجاہد عالم خان کو اس مرحلے پر ضمانت نہیں دی گئی۔ مجاہد عالم خان کو پولیس نے قتل کیس کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس طرح مقدمے میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ملزم نمبر دو کو عدالت سے ضمانت مل گئی، جبکہ مرکزی ملزم کی عدالتی حراست برقرار ہے۔

خواجہ معیز الدین قتل کیس میں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور عدالت میں مقدمے کی قانونی کارروائی بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ محبوب عالم خان کو ضمانت ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے انہیں قتل کے الزامات سے بری کردیا ہے۔ ضمانت صرف مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کو مخصوص شرائط کے تحت رہا کرنے کا عدالتی حکم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں