ٹرین میں ہجومی تشدد کے شکار مسلم شخص کی خاتون سے چھیڑ چھاڑ کے الزام میں گرفتاری، عاصم حسین نے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیا

دہلی سے مرادآباد ٹرین میں سفر کے دوران پدماوت ایکسپریس میں کچھ شرپسندوں نے ایک مسلم کاروباری شخص کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا تھا جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ دو دن بعد اسی شخص کی گرفتاری عمل میں آئی جس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق عاصم حسین کو خاتون سے چھیڑ چھاڑ کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ واقعہ کے دو دن بعد ایک خاتون نے پولیس میں عاصم کے خلاف شکایت درج کرائی۔

عاصم حسین نے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’کاروبار کے سلسلہ میں وہ دہلی گئے تھے اور واپسی کے دوران ٹرین میں تشدد کیا گیا اور حملہ آوروں نے میری داڑھی کھینچی اور چوری کا الزام لگایا تھا۔ شرپسندوں نے جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا اور میرے کپڑے بھی اتاردیئے اور بلٹ سے بری طرح پیٹا۔ اس حد تک زدوکوب کیا کہ میں بیہوش ہوگیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس دورا ٹرین کے ڈبے میں کافی لوگ موجود تھے لیکن کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی اور شرپسند انہیں نشانہ بناتے رہے اور جب ٹرین مرادآباد اسٹیشن کے قریب پہنچی تو پلیٹ فارم سے پہلے ہی مجھے ٹرین سے نیچے پھینک دیا گیا۔

عاصم حسین نے بتایا کہ وہ کسی طرح رات دیر گئے اپنے گھر پہنچے اور خوف کے عالم میں تھے، انہوں نے فوری طور پر پولیس میں شکایت درج نہیں کی لیکن جب معاملہ کا ویڈیو وائرل ہوگیا تو ریلوے پولیس حرکت میں آگئی۔ بعدازاں عاصم حسین نے مرادآباد جی آر پی پہنچ کر واقعہ کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے اس معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار بھی کیا۔

لیکن اچانک دو روز بعد ایک خاتون نے عاصم خان پر چھیڑ چھار کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے عاصم کو گرفتار کرلیا۔ عاصم نے خاتون کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں