صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے آج بجٹ سیشن 2023 کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ گزشتہ جولائی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر مرمو کا راجیہ سبھا اور لوک سبھا ممبران کے مشترکہ اجلاس سے یہ پہلا خطاب تھا۔
صدر دروپدی پرمو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ملک میں مستحکم، نڈر اور فیصلہ کن حکومت ہے جو بڑے خوابوں کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے سے لے کر تین طلاق کو ختم کرنے تک، میری حکومت نے بڑے فیصلے لیے ہیں۔‘‘ انہوں نے حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایودھیا دھام تیار ہو رہا ہے اور دوسری طرف جدید پارلیمنٹ کی تعمیر ہو رہی ہے۔ ادھر کیدارناتھ دھام کی دوبارہ ترقی کا کام اور کاشی وشوناتھ دھام کوریڈور اور مہاکال پروجیکٹ کا ترقیاتی کام پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائک، دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی، LOC اور LAC پر کسی بھی غلط حرکت کا منھ توڑ جواب دینا، دفعہ 370 اور طلاق ثلاثہ کی منسوخی فیصلہ کن سرکار کی مثالیں ہیں۔ مرمو نے کہا کہ ملک میں آج ایک ایسی سرکار ہے، جو ایمانداری کا احترام کرتی ہے اور غریبوں کے مسئلے حل کرنے کے لئے کام کرتی ہے اور انھیں مستقل طور پر بااختیار بناتی ہے۔
صدر نے یہ بھی کہا کہ ملک کو 2047 تک ایک ایسا ملک بنانےکی ضرورت ہے، جس کی ماضی کی آن بان اور شان برقرار رکھی جائے گی اور جدیدت کے تمام سنہری پہلووں کو بھی اس میں شامل رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ اپنے قومی مفاد کو سب سے زیادہ مقدم رکھا ہے۔ افغانستان میں چاہے زلزلہ ہو یا سری لنکا میں بحران ہو، بھارت نے سب سے پہلے انسانی بناید پر امداد فراہم کی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں غریب کلیان اَن یوجنا جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ سرکار غریب پرور ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے بارے میں کتنی زیادہ دلچسپی لیتی ہے۔ صدر جمہوریہ کی اس تقریر کے ساتھ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس شروع ہوگیا ہے جو اپریل کی 6 تاریخ تک جاری رہے گا اور اس دوران پارلیمنٹ کی 27 نشستیں ہوں گی۔ اجلاس کا پہلا حصہ 13 فروری کو ختم ہوجائے گا۔


