کانگریس نے بجٹ عوام کی امیدوں کے ساتھ دھوکہ قرار دیا، راہل گاندھی نے کہا یہ ’متر کال کا بجٹ‘ ہے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بجٹ کو لے کر کہا کہ انتخاب کو دھیان میں رکھ کر بنایا گیا مودی حکومت کا بجٹ عوام کا بی جے پی پر لگاتار گرتے اعتماد کا ثبوت ہے۔ لکارجن کھڑگے نے مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ بجٹ پیش کیے جانے کے بعد یکے بعد دیگرے کئی ٹوئٹس کر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انھوں نے کہا کہ ’’یہ صرف انتخاب کو دھیان میں رکھ کر بنایا گیا بجٹ ہے، ملک کو دھیان میں رکھ کر نہیں۔ اس بجٹ میں زبردست بے روزگاری کا حل تلاش کرنے کی کوئی بھی کوشش نہیں ہے۔ بجٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے روز مرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں کوئی بھی کمی آئے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اسے ’متر کال کا بجٹ‘ قرار دیتے ہوئے مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے ’’متر کال بجٹ میں… نہ تو ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے کوئی ویژن ہے اور نہ ہی مہنگائی سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ ہے۔ نابرابری کو دور کرنے کا کوئی ارادہ بھی بجٹ میں نہیں ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ 1 فیصد سب سے امیر 40 فیصد ملکیت کے مالک ہیں، 50 سب سے غریب 64 فیصد جی ایس ٹی کی ادائیگی کرتے ہیں، 42 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں… پھر بھی پی ایم کو پروا نہیں ہے۔ یہ بجٹ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان کے مستقبل کی تعمیر کے لیے حکومت کے پاس کوئی خاکہ نہیں ہے۔

سابق مرکزی وزیر مالیات اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے بجٹ 2023 کے بعد ایک پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ”آج 24-2023 کا جو بجٹ پیش کیا گیا وہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ حکومت لوگوں اور ان کی زندگی، ان کے ذریعہ معاش اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے فاصلہ و ان کی فکروں سے کتنی دور ہے۔” چدمبرم نے ساتھ ہی کہا کہ ”مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیر مالیات نے اپنی تقریر میں کہیں بھی بے روزگاری، غریبی، نابرابری یا برابری جیسے الفاظ کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ ہاں، دو بار انھوں نے اپنی تقریر میں غریب لفظ کا تذکرہ کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کی عوام اس بات پر دھیان دے گی کہ کون حکومت کی نظر میں ہے اور کون نہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں