حیدرآباد (دکن فائلز) یوگا گرو بابا رام دیو نے ایک بار پھر اپنی جاہلیت کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے متعدد مرتبہ اسلام مخالف بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔ آج انہوں نے سرخیوں میں رہنے کےلیے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے آج ہندو، مسلم اور عیسائیوں کا موازنہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو خوب برا بھلا کہا۔
انہوں نے اپنی جاہلیت کا ثبوت دیتے ہوئےکہا کہ ’مسلمان چاہے دہشت گرد ہو یا مجرم، وہ نماز ضرور پڑھتے ہیں، وہ اسلام کو صرف نماز پڑھنا ہی سمجھتے ہیں، دن میں پانچ بار نماز پڑھو اور اس کے بعد جو چاہئے وہ کرو، ہندو لڑکیوں کو اٹھاؤ اور جو چاہے وہ گناہ کرو‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ اسلام میں جنت کا مطلب ٹخنوں سے اوپر پاجامہ پہننا ہے۔ اپنی مونچھیں کاٹ دو اور داڑھی بڑھاؤ۔ ٹوپی پہن لو، کیا قرآن ایسا کہتا ہے؟ پھر بھی لوگ ایسا کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جنت میں ان کا مقام یقینی ہے، جنت میں حوریں ملیں گی‘۔
اتنا سب کچھ کہتے بعد انہوں نے خود کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کسی پر تنقید نہیں کر رہا ہوں‘۔ انہوں نے اس موقع پر عیسائی مذہب کو بھی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’چرچ میں جا کر موم بتی جلائیں اور عیسیٰ مسیح کے سامنے کھڑے ہوں، تمام گناہ مٹ جاتے ہیں‘۔
راجستھان کے شہر باڑمیر میں ایک مندر میں منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رام دیو نے ہندو مذہب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’سناتن دھرم کہتا ہے کہ برہما مہورت پر صبح اٹھیں، خدا کا نام لیں اور یوگا کریں، ہندو مذہب ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کو اچھی طرح کیسے گزارا جائے، ہمیں نیک سلوک کرنا چاہئے اور عمل کرنا چاہئے، تشدد، جھوٹ، لڑائی، گناہ، جرم سے دور رہنا چاہیے، یہ سب ہندو مذہب سکھاتا ہے‘۔ رام دیو کی جانب سے مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان دینے کے بعد سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ اس طرح کا بیان صرف اسلامی تعلیمات سے بالکل ناواقف اور اسلام دشمنی میں ہی کوئی شخص دے سکتا ہے جوکہ جاہلیت کی کھلی مثال ہے۔ رام دیو کو چاہئے کہ وہ پہلے اسلامی تعلیمات سے واقفیت حاصل کریں اور اس طرح کے بیانات سے اپنی گندی ذہنیت کا ثبوت نہ دیں۔


