حیدرآباد (دکن فائلز) کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے دہلی عدالت کی جانب سے جامعہ تشدد معاملہ میں 11 افراد کو قربانی کا بکرا بنائے جانے سے متعلق تبصرہ پر آج سلسلہ وار ٹوئٹ کئے اور دہلی پولیس کے رویہ پر تنقید کی۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’کیا کہ کیا ملزم کے خلاف ابتدائی ثبوت تھے؟ ہرگز نہیں‘
A Delhi trial court has held that Sharjeel Imam and 10 others were made "scapegoats" in a case connected with incidents of violence in Jamia Millia Islamia in 2019
Was there even prima facie evidence against the accused? The Court's conclusion: unequivocal no
— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) February 5, 2023
واضح رہے کہ دہلی کی ایک عدالت نے گذشتہ روز جامعہ تشدد معاملے میں 11 افراد کو بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ’بلی کا بکرا‘ بنایا گیا۔
عدالت کے فیصلہ کے بعد چدمبرم نے ٹوئٹ کیا کہ ان لوگوں کو مقدمہ چلائے جانے سے پہلے ہی قید کی سزا دے دی گئی! جبکہ دہلی کی ایک عدالت نے مشاہدہ کیا ہے کہ 2019 جامعہ تشدد کیس میں شرجیل امام اور دیگر 10 کو قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا۔ کیا ملزم کے خلاف ابتدائی ثبوت تھے؟ ہرگز نہیں، ملزمین گذشتہ تقریباً 3 سال سے جیل میں قید ہیں جبکہ متعدد کو کئی مہینوں بعد ضمانت ملی، یہ مقدمہ سے پہلے کی حراست ہے، نااہل پولیس شہریوں کو مقدمے سے پہلے جیل میں رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟ ملزمین نے بغیر کسی جرم کے کئی سال جیل میں گزارے ہیں وہ کون واپس کرے گا؟‘
انہوں نے کہاکہ ’فوجداری انصاف کا نظام جو مقدمے سے پہلے قید کا ارتکاب کرتا ہے، ہندوستان کے آئین کی آرٹیکل 19 اور 21 کی توہین ہے۔ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ قانون کے غلط استعمال کو روکنا چاہیے‘۔


