میرے والد کو بلاوجہ پریشان کیا گیا اور ہماری خوشیاں چھین لی گئیں، اس کا ذمہ دار کون؟ صدیق کپن کے بیٹے مزمل کا کرب

حیدرآباد (دکن فائلز) کیرالا کے مسم صحافی صدیق کپن گذشتہ جمعرات کو اترپردیش کی جیل سے رہائی عمل میں آئی جبکہ وہ تقریباً 28 ماہ سے جیل میں قید تھے۔ ان کی رہائی کے بعد اہلیہ اور بیٹے نے خوش کا اظہار کیا۔

صدیق کپن کے بڑے بیٹے 19 سالہ مزمل اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ میرے والدکو جیل میں کیوں ڈالا گیا تھا اور اب ان کی رہائی کے کیا معنی ہیں۔ گفتگو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کافی عرصے سے اپنے والد کی گھر واپسی کے انتظار میں تھے۔ انہیں ضمانت ستمبر میں ہی مل گئی تھی لیکن جس طرح انہیں جیل میں رکھا گیا، اس پر ہمیں تشویش ہے‘۔

مزمل کپن نے کہا کہ ’میرا ایک ہی سوال ہے کہ میرے والد کو بلاوجہ جیل میں قید کیوں رکھا گیا ؟اس دوران ہم کس ذہنی حالت سے گزرے ہیں اور کس طرح کی ذہنی اذیت سے دوچار ہوئے ہیں اس کا اندازہ کوئی نہیں لگاسکتا۔ مزمل نے مزید کہا کہ ڈھائی سال کی مدت کم نہیں ہوتی اور وہ بھی ایسے میں جب آپ کو معلوم ہوکہ آپ کا کوئی اپنا بغیر کسی وجہ کے یا جرم کے سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا ہے۔ ہم ہر دن ان کی رہائی کا انتظار کرتے تھے اور انتظار کا یہ کرب کیا ہوتا ہے اس کا اندازہ وہی لگاسکتا ہے جو اس پریشانی سے گزرا ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں