صبح 4 بجکر 17 منٹ پر زلزلے نے نیند میں ڈوبے لوگوں پر قیامت ڈھادی، 50 سے زائد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی کئی گھنٹوں تک جاری رہا، زلزلے کی شدت گرین لینڈ اور ڈنمارک تک محسوس کی گئی
ترکیے اور شام میں 7.8 شدت کے زلزلے نے تباہی مچادی، رات گئے آنے والے زلزلے نے لوگوں کو بچنے کا موقع ہی نہ دیا، بلند و بالا عمارتیں لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، 50 سے زائد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی کئی گھنٹوں تک جاری رہا، دونوں ممالک میں اموات کی مجموعی تعداد 2300 سے تجاوز کر گئی ہے۔
جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں آئے بھیانک زلزلہ میں ابھی تک 2300سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ آج صبح اِن علاقوں میں 7اعشاریہ 8شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا۔ جس کی وجہ سے متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے بتایاکہ زلزلہ کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 1498 ہوگئی ہے۔ جبکہ شام کے صدر بشارالاسد نے بتایاکہ اُن کے ملک میں 800 اموات ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ ترک صدر طیب اردگان نے میں ملک میں ہولناک زلزلے کے بعد ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔
ترکیہ میں زلزلہ کی اطلاع ملنے پر وزیر اعظم نریندرمودی نے گہرے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے مناسب امداد فراہم کرنے کا تیقن بھی دیا۔وزیر اعظم کی ہدایت پر ترکیہ اور شام کیلئے قومی آفت سماوی انتظامی فورس کی ٹیموں کے علاوہ ڈاکٹرس اور ادویات روانہ کی جارہی ہیں۔


