کاماریڈی میں مسجد کی باؤنڈری وال کا بلڈوزر سے انہدام، پولیس میں شکایت کے باوجود خاطیوں کو گرفتار نہ کرنے پر جمعیت علماء کا اظہار مذمت

مستقر موتہ ضلع کاماریڈی کی چار سو سالہ قدیم عالمگیر مسجد کی باؤنڈری وال کو مخصوص فرقہ کی جانب سے دن دہاڑے بلڈوزر سے منہدم کردیا گیا۔

اس خصوص میں علاقہ کے مسلمانوں نے جمعیت علماء ضلع کاماریڈی کے ذمہ داران حافظ فہیم صدر اور عظمت علی جنرل سیکریٹری ضلع جمعیت سے رابطہ کیا۔ ان حضرات کے کہنے پر فی الفور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی، لیکن اس کے باوجود خاطیوں کی گرفتاری اب تک عمل میں نہیں آئ، حالانکہ مسجد کی باؤنڈری وال گرانے کے ویڈیوز اور فوٹوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے۔ ان تمام کے باوجود خاطیوں کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں بڑی شدید بے چینی دیکھی جارہی ہے۔

اس خصوص میں جمعیت علماء کاماریڈی کے جنرل سیکریٹری عظمت علی نے مفتی محمود زبیر قاسمی سے رابطہ کرتے ہوئے ایس پی سے ملاقات کا فیصلہ کیا اور مفتی زبیر نے ریاستی وزیر داخلہ کو فون کیا اور فوٹوز و ویڈیوز انہیں روانہ کیں۔

اس خصوص میں جمعیت علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کے صدر مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی نے پولیس اور حکومت کے رویہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کلکٹریٹ مسجد نظام آباد کا مسئلہ، سیکریٹریٹ مساجد کا مسئلہ، عنبر پیٹ مسجد کا مسئلہ اور اس وقت کاماریڈی کی موضع موتہ کی مسجد کا مسئلہ اس سلسلے میں حکومت اور خاص طور پر پولیس انتظامیہ کا جو رویہ ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مسلمان صبر کے ساتھ قانون کا سہارا لے کر اس معاملے میں پولیس اور حکومت سے تعاون کی امید رکھتے ہیں، لیکن حکومت اور انتظامیہ کا رویہ اس خصوص میں مسلمانوں کو بہلانے کا رہاہے۔

انہوں نے وزیر داخلہ محمود علی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور اس مسئلہ کا نوٹ لیں اور خاطیوں کی گرفتاری کو یقینی بنائیں تاکہ علاقہ میں فرقہ پرست اور نفرت پھیلانے والے عناصر بدامنی نہ پھیلا سکیں اور مسلمانوں کا انتظامیہ پر اعتماد بحال ہو۔
Demolition mosque boundary wall in Kamareddy

اپنا تبصرہ بھیجیں