اب لکھنؤ کا نام تبدیل کرنے کا منصوبہ؟

حیدرآباد (دکن فائلز) : اترپردیش کی یوگی حکومت پر نام کی تبدیلی کو لے کر تنقیدیں کی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی حکومت کی جانب سے ریلوے اسٹیشنوں، شہروں، اسٹیڈیم و دیگر مقامات کے ناموں کو تبدیل کرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

اب اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے کہا کہ تریتا یوگ کے دوران لکھنؤ کو لکشمن پور کہا جاتا تھا، جسے نواب آصف الدولہ نے تبدیل کرکے لکھنؤ رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسا مانا جاتا ہے کہ تریتا یوگ کے دوران رام نے ایودھیا شہر پر حکومت کی تھی اور لکھنؤ شہر اپنے بھائی لکشمن کو تحفے میں دیا تھا اسی وجہ سے اس شہر کو لکھن پور اور لکشمن پور کہا گیا۔

برجیش پاٹھک نے بدوی دورہ کے دوران کہا کہ لکھنو دراصل لکشمن سٹی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لکھنؤ کا نام بدل کر ‘لکشمن نگر’ کرنے کے لیے بات چیت کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل بی جے پی کے رہنما سنگم لال گپتا نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے لکھنو کا نام تبدیل کرکے لکشمن پور کرھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امیت شاہ کو لکھے خط میں سنگم لال نے زور دیا کہ وہ آئندہ نسلوں کے لیے ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں