مولانا ارشد مدنی کی توحید پر جُرأت مندانہ تقریر، لوکیش منی کا غیرضروری اعتراض، آچاریہ نے جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا

حیدرآباد (دکن فائلز) : دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ جمیعت علمائے ہند کے سالانہ اجلاس عام کا آج اختتام ہوگیا۔ اجلاس کے آخری روز بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور سارا میدان بھر چکا تھا۔

جمعیۃ علماء کے کنونشن کے آخری روز اس وقت اسٹیج پر افراتفری دیکھی گئی جب دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے کچھ مذہبی رہنماؤں نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسٹیج سے چلے گئے۔ اس دوران جین مذہب کے رہنما آچاریہ لوکیش منی نے مولانا ارشد مدنی کی توحید پر مبنی فکر انگیز و جُرأت مندانہ تقریر پر اعتراض جتایا اور اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے قبل ازیں اپنے رخت انگیز خطاب میں کھل کر توحید پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سرزمین پر سب سے پہلے منو (آدم) آئے تھے۔ منو نے توحید کی دعوت دی اور ایک اللہ کی طرف بلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم (مسلمان) منو کو آدم کہتے ہیں اور وہ ہمارے پہلے نبی ہیں جسے زمین پر بھیجا گیا تھا۔ ہم مانتے ہیں کہ ساری دنیا انہی کی اولاد ہے۔

مولانا کے اس بیان پر لوکیش منی نے اعتراض جتایا اور کہا کہ ہم آہنگی و قومی اتحاد کے عنوان سے اجلاس منعقد کیا گیا تھا تاہم یہاں ایک خاص مذہب کی بات کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ اس اجلاس میں کسی مذہب کے خلاف کوئی اشتعال انگیز بات نہیں کی گئی جبکہ صرف توحید کے اصل معنیٰ کو واضح طور پر بتایا گیا جس پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے لیکن مودی میڈیا کی جانب سے اس معاملہ کو غیرضروری بڑھاچڑھا کر پیش کیا جارہا ہے اور خوب اچھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں