ہریانہ میں دو مسلم نوجوانوں کو زندہ جلانے کے معاملے میں راجستھان پولیس نے 6 لوگوں کو حراست میں لیا ہے لیکن اصل سرغنہ و مرکزی ملزم مونو مانیسر کو پولیس ابھی تک گرفتار نہیں کر پائی ہے جبکہ مونو سوشل میڈیا پر ایکٹو ہے۔ ہریانہ پولس کے افسران اور مرکزی وزرا کے ساتھ اس کی تصویریں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ اس کی ہتھیاروں کے ساتھ ویڈیو بھی وائرل ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے الزام لگایا ہے کہ ہریانہ حکومت، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد مل کر مونو مانیسر کی حفاظت کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق راجستھان پولیس، ہریانہ پولیس کے کردار کی بھی تحقیقات کررہی ہے جبکہ ایسا کہا جارہا ہے کہ مبینہ طور پر گائے کی اسمگلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے متاثرین کو کر زد و کوب کیا تھا۔ میڈیا رپورٹوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نام نہاد گئو رکھشک نے دونوں کو ادھ مرا کرنے کے بعد انہیں ہریانہ کے ایک پولیس اسٹیشن میں لائے تاکہ انہیں گرفتار کیا جائے، لیکن دونوں کی حالت انتہائی خراب تھی جس کے بعد پولیس نے انہیں غنڈوں کو ہی سونپ دیا۔
وہیں راجستطان پولیس پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ اس نے ہریانہ میں ایک ملزم کی حاملہ بیوی سے مار پیٹ کی ہے، جس کی وجہ سے اس کا اسقاط حمل ہو گیا جبکہ راجستھان پولیس نے ایسے کسی واقعہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار وہاں گئے ہی نہیں۔
دوسری جانب ناصر اور جنید کو سپرد لحد کردیاگیا۔اس موقع پر اہل خانہ نے تمام ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ گائوں والے ناصر اور جنید کی قبر کے پاس احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمین کو جلد کیفر کردار تک پہنچایاجائے۔اہل خانہ نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے اس طرح کے دہشت گرد گروہ پر پابندی عادئ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
دریں اثناء جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے دو مسلم نوجوان جنید اور ناصر کے وحشیانہ قتل کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اگر اقلیتی طبقہ کا کوئی شخص کچھ بھی کہتا ہے تو اس پر دہشت گردی کے مقدمات عائد کیا گیا ہے لیکن جنہوں نے دو نوجوانوں کو زندہ جلادیا ان پر معمولی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے پورے معاملہ کی جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ کیا۔
کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے گذشتہ روز جنید اور ناصر کے گاؤں جاکر اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں پرسہ دیا۔ اس موقع پر اویسی نے الزام لگایا کہ راجستھان حکومت نے جنید اور ناصر کے اہل خانہ کی طرف سے درج لاپتہ افراد کی شکایت پر کارروائی میں تاخیر کی اور ملزمان کو ریاست سے ہریانہ فرار ہونے کی اجازت دی۔
نصیر اور جنید کے رشتہ داروں نے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت سے ملاقات کی، جنہوں نے تمام ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا یقین دلایا۔
این ڈی ٹی وی نے اپنی خاص رپورٹ میں بتایا کہ ذرائع کے مطابق رنکو سینی نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنید اور ناصر کو روکا۔ رنکو نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنید اور ناصر کو گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں مارا پیٹا تھا۔ مار پیٹ سے جنید اور ناصر بری طرح زخمی ہو گئے۔ رنکو سینی و دیگر بری طرح زخمی جنید اور ناصر کو قریبی فیروز پور جھرکہ تھانے لے گئے۔ بری طرح زخمی جنید اور ناصر کو دیکھ کر ہریانہ پولیس نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ پولیس نے رنکو کو جنید اور ناصر کو وہاں سے لے جانے کو کہا۔ اس کے بعد رنکو نے اپنے دوسرے ساتھیوں سے رابطہ کیا۔ رنکو سینی بولیرو گاڑی اور دونوں کو 200 کلومیٹر دور بھیوانی لے گئے۔ اس نے 16 تاریخ کی علی الصبح دونوں کو بولیرو گاڑی میں پٹرول ڈال کر جلا دیا۔ ملزمان کو لگا کہ انہیں 200 کلومیٹر دور لے جا کر جلا دیا جائے تو کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا لیکن گاڑی کے چیسس نمبر سے معلوم ہوا کہ گاڑی سے ملنے والی لاشوں کی باقیات جنید اور ناصر کی ہیں۔


