سپریم کورٹ نے آج فیصلہ سنایا ہے کہ اعلیٰ انتخابی کمشنر اور انتخابی کمشنروں کی تقرری وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما اور بھارت کے چیف جسٹس پر مشتمل ایک کمیٹی کے مشورے پر صدر جمہوریہ کریں گے۔
جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی میں پانچ ججوں کی ایک آئینی بینچ نے کہا کہ یہ کمیٹی اُس وقت تک اپنا کام کرتی رہےگی، جب تک کہ پارلیمنٹ اِس بارے میں کوئی قانون نہ بنادے۔
بینچ اُن عرضداشتوں کی سماعت کررہی تھی، جن میں انتخابی کمیشن کے ارکان کی تقرری کے عمل میں اصلاحات کی مانگ کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ چناؤکمیشن کوایگزیکٹو کی ہر طرح کی ماتحتی سے خود کو علیحدہ رکھنا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ انتخابی کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ منصفانہ اور قانون کےتحت کام کرے اور آئین کی دفعات پر عمل کرے۔


