مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج تلنگانہ میں اپنے سیاسی فائدہ کو نظر میں رکھتے ہوئے ایک بار پھر مسلم ریزرویشن کا معاملہ اٹھایا اور کھل کر مخالفت کی۔ انہوں نے حیدرآباد کے مضافاتی علاقہ چیوڑلہ میں منعقدہ بی جے پی کے ایک جلسے سے خطاب کیا۔
ریاست میں بہت جلد اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے جس کے پیش نظر تمام پارٹیوں کی سیاسی سرگرمیوں میں شدت آگئی ہے۔ وہیں بی جے پی کی نظریں ہندو ووٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ امت شاہ نے آج سنسنی خیز اعلان کیا کہ ’ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم ریزرویشن کو ختم کردیا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے تحفظات کو ختم کرکے ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کے ریزرویشن کو بڑھایا جائے گا۔
اس موقع پر مت شاہ نے کے سی آر پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی آر کی کار کا اسٹیرنگ مجلس کے ہاتھ میں ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ کے سی آر نے بندی سنجے کو بھیج دیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی کارکن جیل جانے سے نہیں ڈرتے ہیں۔ انہوں نے پیپر لیک معاملہ کو بھی اٹھایا۔ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی، مجلس سے نہیں ڈرتی۔


