پنجاب پولیس اور انٹیلی جنس شعبے کی مشترکہ کارروائی میں خالصتان نواز پرچارک اور وارث پنجاب دے تنظیم کے سرغنہ امرت پال سنگھ کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ وہ پنجاب کے موگا میں پکڑا گیا۔ وہ پچھلے ایک مہینے سے مفرور تھا اور پولیس اُسے گرفتار کرنے کےلئے بھرپور کوشش کررہی تھی۔ انسپکٹرجنرل پولیس سکھ چین سنگھ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اُس کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد امرت پال سنگھ کو بھٹنڈا ائیر فورس اسٹیشن لے جایا گیا اور بعد میں اُسے آسام میں ڈبرو گڑھ لے جایا گیا۔ تقریباً ایک مہینہ پہلے پنجاب پولیس نے امرت پال کے خلاف لُک آؤٹ سرکولر اور غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔اس کے کئی قریبی ساتھوں کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔
امرت پال سنگھ کو آج بالآخر پنجاب میں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے سینئر عہدیدار سکھ چین سنگھ گل نے بتایا کہ ’امرت پال سنگھ کو خفیہ اطلاع کے بعد ضلع موگا کے گاؤں روڈے سے گرفتار کرلیا گیا‘۔
انہوں نے کہا کہ امرت پال سنگھ کو نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گاؤں گردوارا سے گرفتار کرلیا گیا اور اس ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کے خطرے پر فرد جرم عائد کیے بغیر ایک سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
گرفتاری کے بعد امرت پال سنگھ کو ریاست آسام کے علاقے دیبروگڑھ منتقل کیا گیا جبکہ اس کے چند ساتھی پہلے ہی جیل میں موجود ہیں۔ پولیس کی جانب سے ’وارث پنجاب دے‘ نامی تنظیم کے سربراہ 30 سالہ امرت پال سنگھ کو خود ساختہ مبلغ بننے اور اپنے سیکڑوں حامیوں کے ساتھ پولیس اسٹیشن پر آتشیں اسلحے کے ساتھ دھاوا بولتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کا الزام عائد کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔


