راجستھان کے سیکر ضلع میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون کی آدھی جلی لاش کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ یہ انتہائی شرمناک ہے۔ کیا ایک لاش کے ساتھ بھی اس طرح کی حرکت کی جاسکتی ہے؟ گاؤ میں ہر کوئی تشویش میں مبتلا ہے اور پولیس کی جابن سے معاملہ کی تحقیقات کی جارہی ہے۔
اس معاملہ میں گرفتار 5 افراد میں ایک سرکاری ٹیچر بھی ہے۔ اطلاع کے مطابق سیکر کے ایک گاؤں میں ایک خاتون کی سڑک حادثہ میں موت ہو گئی تھی۔ خاتون کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔ لواحقین نے لاش کی آخری رسومات ادا کیں اور پھر گھر واپس آگئے، جس کے بعد گاؤں کے کچھ بدمعاشوں نے ادھ جلی خاتون کی لاش کو چتا سے نکال کر اس کے ساتھ بدفعلی کی۔ اس بات کی اطلاع جب گھر والوں کو ہوئی تو وہ شمشان گھاٹ پہنچے اور پانچ درندہ صفت افراد کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کردیا۔
شمشان سے شراب کی بوتلیں بھی ملیں۔ اس معاملے میں پولیس نے شنکر لال، بابولال کے علاوہ دیگر تین بدمعاشوں کو گرفتار کرلیا۔ شنکر لال، گورنر ٹیچر ہے اور وہ اس بات پر نظر رکھتا تھا کہ گاؤں میں کس خاتون کی موت ہوئی ہے اور کب اس کی آخری رسومات دی کی جانے والی ہے تاکہ لاش کے ساتھ بدفعلی کی جاسکے۔


