عائشہ میرا قتل کیس متحدہ آندھرا پردیش کا ایک سنسنی خیز معاملہ ہے۔ ستیم بابو کو اس معاملے میں بری کردیا گیا جبکہ وہ اس کیس کے سلسلہ میں کئی سال جیل میں رہا۔ اب سی بی آئی اس معاملہ کے اصل مجرمین کو پکڑنے کےلیے دوبارہ تحقیقات کرے گی۔
سی بی آئی حکام نے ایک بار پھر بی فارمیسی کی طالبہ عائشہ میرا کے قتل کیس کی تحقیقات کا بیڑا اٹھایا ہے۔ سی بی آئی اس کیس سے متعلق ایم سرینواس (فی الحال تلنگانہ میں جوائنٹ سی پی کے عہدہ پر فائز ہیں) سے معلومات اکٹھا کر رہی ہے جو عائشہ میرا کے قتل واقعہ کے وقت نندی گاما کے ڈی ایس پی تھے۔
عائشہ قتل کیس کے گواہوں سے دوبارہ جرح کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ عائشہ کے والدین نے قتل اصل مجرمین کو سزا دینے کےلئے عدالت سے رجوع ہوئے تھے جس کے بعد عدالت نے سی بی آئی کو اس معاملہ کی دوبارہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔
27 دسمبر 2007 کو عائشہ میرا کو نامعلوم افراد نے رات گئے بے دردی سے قتل کر دیا اور وہاں سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی کئی زاویوں سے تفتیش کی۔ پولیس نے ستیم بابو نامی نوجوان کو گرفتار کیا۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر اسے عمر قید کی سزا سنائی۔ بعدازاں ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ستیم بابو کو بری کر دیا۔


