کرناٹک میں حجاب پر پابندی کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ ایمنسٹی انڈیا نے حجاب پر پابندی واپس لینے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ریاستی کانگریس حکومت کی طرف سے اس پر ردعمل کا اظہار بھی کیا گیا۔ کرناٹک کے وزیر ڈاکٹر جی پرمیشور نے ہم دیکھیں گے کہ مستقبل میں کیا بہتر کیا جاسکتا ہے۔ فی الحال ہمیں کرناٹک کے عوام کو دی گئی پانچ وعدوں کو پورا کرنا ہے۔
قبل ازیں کرناٹک کانگریس کی واحد مسلم خاتون رکن اسمبلی کنیز فاطمہ نے کہا تھا کہ کانگریس حکومت جلد ہی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو ہٹالے گی۔ ہم ان لڑکیوں کو کلاسوں میں واپس لائیں گے، اب وہ اپنی تعلیمی پرامن انداز میں حاصل کرسکتی ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران کانگریس رہنما و نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی کہا تھا کہ کانگریس حکومت بننے کے بعد حجاب پر پابندی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بنائے گئے تمام قوانین کو واپس لیا جائے گا۔
ایسا مانا جاتا ہے کہ حجاب پر بی جے پی حکومت کے فیصلے کی وجہ سے 18,000 مسلم لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد کانگریس حکومت اب سابقہ بی جے پی حکومتوں کے عوام مخالف و متنازعہ فیصلوں کا جائزہ لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ سدارامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت میں وزیر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پرینک کھرگے نے اشارہ دیا کہ سابقہ بی جے پی حکومت کے متنازعہ فیصلوں پر نظرثانی کی جائے گی جن میں نصابی کتب پر نظر ثانی، تبدیلی مذہب مخالف قانون اور گاؤ ذبیحہ قانون وغیرہ شامل ہیں۔ وزیر پرینک کھرگے نے کہا کہ وہ حجاب تنازعہ پر بھی عوام کے حق میں فیصلہ کریں گے۔
واضح رہے کہ کانگریس حکومت نے پچھلی بی جے پی حکومت کی جانب سے منظور کردہ تمام پروجیکٹوں کے لیے ادائیگیوں کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


