حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے ضلع مظفرنگر میں واقع ایک درگاہ کے احاطہ میں نام نہاد ہندو رہنما راجیش گوئل کی جانب سے متنازعہ پوسٹر لگایا گیا جسے بعد میں پولیس نے وہاں سےہٹادیا گیا۔ سوشل میڈیا پر راجیش گوئل کی کارستانی پر تنقیدیں کی جارہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مظفرنگر کی ایک درگاہ کے احاطہ میں ایک راجیش گوئل کی جانب سے متنازع پوسٹر چسپاں کیا گیا جس کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ راجیش گوئل کی جانب سے درگاہ کے احاطہ میں پوسٹر لگاکر سبھی ہندوؤں سے اپیل کی گئی تھی کہ مزار پر نہ جائیں، اگر پوجا رنا ہے تو مندر میں جائیں۔
ہندوؤں کو درگاہ میں جانے سے روکنے کا پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس کے بعد راجیش گوئل کے خلاف لوگوں نے آواز بلند کی۔ بعدازاں پولیس نے مزار سے پوسٹر کو ہٹا دیا۔
راجیش گوئل نے قدیم مزار پر متنازعہ پوسٹر لگانے سے متعلق سوال پر کہا کہ سناتن دھرم میں قبر کی پوجا نہیں کی جاسکتی، ہم ہمارے آباؤ اجداد نے قبروں کی بھی پوجا نہیں کرسکتے۔ اسی لیے ہندوؤں سے اپیل کی گئی کہ کوئی بھی ہولی، دیوالی یا دیگر تہوار کے موقع پر درگاہ نہ جائے اور نہ ہی وہاں کوئی منت مانگے۔ ہمارے سناتن دھرم میں بہت سے دیوتا ہیں اور مظفر نگر میں مندروں کی کمی نہیں ہے۔


