حیدرآباد (پریس ریلیز) مہاراشٹرا کے ممبئی میں واقع رضا اکیڈی کے مرکزی دفتر میں علمائے کرام کا ایک اجلاس محمد سعید نوری بانی و سربراہ رضا اکیڈیمی و نائب صدر آل انڈیا سنی جمیعتۃ العلمائ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں چند روز بعد ریلیز ہونے والی متنازعہ فلم ’اجمیر92‘ کو لیکر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ متنازعہ فلم میں عظیم صوفی بزرگ حضرت خواجہ غریب نواز چشتی اجمیریؒ کی ذات پر بیہودہ بکواس کی گئی اور اس بہانے سے ہندو و مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ سبھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ حضرت خواجہ غریب نواز ایک صوفی اور اللہ کے ولی ہیں جن کے آستانے پر حاضری دینے سے روحانی سکون ملتا ہے۔
محمد سعید نوری نے کہا کہ ’اجمیر 92 ‘ سے قبل کشمیر فائلز اور کیرالا اسٹوری کے ذریعہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ اب اس ناپاک مقصد کے تحت تیسری فلم ’اجمیر 92‘ کے نام سے بنائی گئی ہے۔ جس میں ایک اسکول میں ہوئے سیکس اسکینڈل کے نام پر بڑا فساد برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مولانا فلی اللہ شریفی نے کہا کہ 1992 میں ہوئے ایک گھناؤنے سیکس اسکینڈل کے ذریعہ پوری چشتی برادری کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ اس میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے، لیکن صرف ایک خاص مقصد کے تحت حضرت خواجہ غریب نواز کی نسبت پر چشتیوں کو مجرم بتایا جارہا ہے۔ ہم ہرگز خواجہ خواجگان کی توہین برداشت نہیں کرسکتے۔
مولانا امان اللہ رضا نے متنازعہ فلم کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اب دریدہ دہن کے لوگ اولیا کرام پر بھی انگشت نمائی کرنے لگے ہیں جن کی بارگاہوں میں سوائے محبت کے اور کچھ نہیں ملتا، وہ حیات ظاہری میں بھی محبتوں کے علمبردار تھے اور بعد وصال بھی ان کے آستانے تمام مذاہب کے لوگوں کےلئے محبت کا مرکز ہے۔ لہذا شیطاری ذہنیت کے لوگ اپنی گندی سوچ سے باز آجائیں۔
مولانا محمد عباس رضوی نے کہا کہ آج ملک میں جو بھی آسانہ عالیہ ہیں وہاں بھید بھاؤ نام کی کوئی چیز نہیں ہے، ان کا دروازہ تو سب کےلئے کھلا ہے بالخصوص خواجہ خواجگان کا دربار تو پوری دنیا میں محبتوں کے ساتھ جانی جاتی ہے، جہاں بیرونی ممالک سے آئے ہوئے رہنما بھی اپنی چادریں پیش کرکے ہندوستان کی شان بڑھاتے ہیں لیکن افسوس کہ حکومت بھی ایسے صوفیا کرام کے گستاخوں پر نکیل نہیں کستی جس سے شرپسندوں کے عزائم بڑھ گئے ہیں۔ میٹنگ کے اختتام پر بزرگ عالم دین مولانا محمد محمود عالم رشیدی نے دعا کی، اس موقع پر قاری نیاز احمد رضوی، قاری ناطم رضا رضوی، حافظ جنید رضا رشیدی، قاری علا الدین رضوی فرحان بھائی گوونڈی ناظم خان رضوی فرید شیخ وغیرہ موجود تھے۔


