’اڈیشہ ٹرین حادثہ کے مقام پر مسجد نہیں مندر ہے‘، حادثہ کی وجہ مسجد، مسلمان اور جمعہ کو بتانے والے فرقہ پرستوں کی سازش بے نقاب

حیدرآباد (دکن فائلز) اڈیشہ کے بالاسور بھیانک ٹرین حادثہ کے بعد جہاں ایک طرف ملک بھر میں سوگ کی لہر دوڑ گئی وہیں کچھ فرقہ پرست اس واقعہ پر بھی اپنی زہریلی سونچ کی وجہ سے ہندو مسلم کرنے میں مصروف ہیں۔ حادثہ کے فوری بعد بعض شدت پسند ہندو تنظیموں سے وابستہ بھگتوں نے ایک بار پھر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹا پروپگنڈہ پھیلانا شروع کردیا۔ شرپسندوں نے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے ایک مسجد کو ٹرین حادثہ کی وجہ بتانے لگے۔
اطلاعات کے مطابق کرناٹک کے ٹمکور ضلع سے تعلق رکھنے والی بی جے پی رہنما شکنتلا نے فرقہ پرستی و اسلام دشمنی پر مبنی ایک پوسٹ کو شیئر کیا اور بعد میں جب سوشیل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر شدید ردعمل ظاہرکیا گیا تو اس نے ٹوئٹ کو ہٹادیا لیکن اس کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔
اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اوڈیشہ پولیس نے سختی سے خبردار کیا ہے کہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بھی اس طرح کی ایک پوسٹ شیئر کی ہے، اوڈیشہ پولیس مبینہ طور پر اس خاتون کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ اوڈیشہ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ایسی جھوٹی پروپیگنڈہ پوسٹس شیئر کرے گا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے بی جے پی کارکن شکنتلا لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ شکنتلا نے اپنا ٹویٹ پہلے ہی سوشل میڈیا سے ہٹا دیا ہے۔ ۔ معلوم ہوا ہے کہ اڈیشہ پولیس نے کرناٹک پولیس سے شکنتلا کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہیں اور قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اوڈیشہ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ٹویٹ کیا کہ بہت سے اہم لوگوں نے بھی تصویر شیئر کی ہے اور سبھی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی گزارش ہے کہ ایسی جھوٹی خبروں کو شیئر نہ کریں اور ان پر یقین نہ کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے حادثہ کے مقام پر جس عمارت کو مسجد ظاہر کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی دراصل وہ ایک مندر ہے۔ یہ عالیشان عمارت مسجد نہیں بلکہ اسکون مندر ہے۔ فرقہ پرستوں نے مندر کے صرف آدھے حصے کی تصویر لی اور اسے مسجد ظاہر کرنے کی کوشش کی اور سوشل میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کرنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی ناپاک کوشش کی۔
پولیس نے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ لیکن بعض انتہاپسندوں کی جانب سے ’مسجد‘ اور مسلمانوں کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے اور خوب منافرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہیں سوشل میڈیا صارفین نے اسے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے ایک اور تصویر شیئر کی اور نشاندہی کی کہ ’یہ مسجد نہیں بلکہ ایک مندر ہے۔
اسی سلسلہ میں آلٹ نیوز کے کو فاؤنڈر محمد زبیر نے اس سازش کا پردہ فاش کرتےہوئے کچھ تصاویر اور ویڈیو کلپ شیئر کیں اور ٹوئٹ کیا کہ ’تین ہزار 400 ری ٹویٹ اور 10 لاکھ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔ کانسپیریسی ٹھیوری کے ذریعے ٹرین حادثے کا الزام جمعے، مسجد اور مسلمانوں کو دے رہے ہیں جبکہ یہ ایک اسکون مندر ہے۔‘

اس معاملہ میں ایک اور فرقہ پرست کی جانب سے فیس بک پوسٹ میں وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مسجد کے قریب ہوا اور جمعے کے دن۔ تمام مسجدیں ریلوے کے قریب سے ہٹا دیں۔‘
فرقہ پرستوں کی سازش کے خلاف سوشل میڈیا یوزرس نے سخت ردعمل کا اظہار کیا جس کے بعد شدت پسندوں کی منافرت پر مبنی ایک اور سازش بے نقاب ہوگئی، جسے ملک کےعوام نے ناکام بنادیا۔ اڈیشہ پولیس نے بھی اس سلسلہ میں ٹوئٹ کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو خبردار کیا اور کہا کہ ایسی فرضی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں