دحیدرآباد (دکن فائلز) این سی پی سربراہ شرد پوار نے اورنگ آباد میں سماجی اور مذہبی اتحاد پیدا کرنے کی غرض سے منعقد کئے گئے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ان دنوں ملک میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت تشدد کی حمایت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آئین نے ملک کے ہر کسی شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی ہے لیکن ان دنوں ماحول کچھ اور ہی ہے۔ مختلف ریاستوں میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو اس کی پوری قوم ( جس مذہب میں وہ گیا ہے) کے ساتھ تشدد کیا جارہا ہے۔
مسلمانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے شرد پوار نے کہاکہ ’مسلم سماج میں غریبی اور پسماندگی عام ہے۔ اگر ہم سماج کو ایک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ترقی کے معاملے میں انصاف چاہئے۔ سماج کبھی کسی ایک طبقے کو پیچھے چھوڑ کر آگے نہیں بڑھ سکتا‘۔ انہوں نے کہا کہ اب جیسے مسلم سماج کے تعلق سے عوام کے اندر مثبت رویہ ہے لیکن کچھ لوگ اس تعلق سے فکر مند ہیں کہ سماج میں انتشار کیسے پیدا ہو۔‘‘ انہوں نے کہا یہ ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
انقلاب کے مطابق شرد پوار نے بر سر اقتدار طبقہ پر الزام لگایا کہ وہ تشدد کو ہوا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ جان بوجھ کر لوگوں میں تفریق پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کولہا پور اور احمد نگر کی مثال دیتے ہوئے کہا ’’ احمد نگر اور کولہاپور میں تفرقہ سوشل میڈیا کے میسیج کی وجہ سے پھیلا۔ آخر اس طرح کے میسیج کا رد عمل سڑکوں پر کیوں ظاہر کیا جاتا ہے؟ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ حکومت کا کام ہے اس طرح کے تشدد کو روکنا لیکن موجودہ حکومت اس تفرقہ کی حمایت کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام ہے کہ وہ امن وامان کو یقینی بنائے لیکن جب حکومت خود ہی منافرت پھیلائے اور تشدد کی حمایت کرے تو پھر کسی بھی ریاست کیلئے یہ بد قسمتی کے بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ٹی وی پر دیکھا کہ بعض لوگ جلوس میں اورنگ زیب کی تصویر دکھا رہے تھے۔ لیکن اس واقعے کے بعد پونے میں تشدد کا کیا مطلب ہے؟
این سی پی سربراہ نے زور دے کر کہا کہ’’ ملک کا ہر ایک فرد ہندوستانی ہے۔ ان ہندوستانیوںکے تعلق سے نفرت اور تفریق کے کسی بھی معاملے سے ہمیں دور رہنا چاہئے اور کل کو اگر کوئی بھی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہےتو ہمارا فرض ہے کہ ہم متحد ہو کر ایسے لوگوں کا مقابلہ کریں۔‘‘ انہوں نے کہاکہ اقتدار میں کوئی بھی رہے لیکن ملک کو ایک کرنے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ متحدہ طور پر مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔


