حیدرآباد (دکن فائلز) جے این یو کے سابق طالب علم و طلبا یونین کے معروف رہنما عمر خالد نے 2020 کے دہلی فسادات معاملے میں گرفتار ہونے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایک ہزار دن مکمل کرلئے ہیں۔
35 سالہ عمر خالد، جو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ (این آر سی) کے خلاف مظاہروں میں اپنی شمولیت کے لیے جانے جاتے ہیں، آج دہلی کی تہاڑ جیل میں 1000 دنوں سے قید ہیں۔ انہیں دہلی پولیس کی جانب سے 13 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ان پر 2020 کے دہلی فسادات میں سازش کرنے کا الزام ہے۔ عمر خالد کو یو اے پی اے اور آرمس ایکٹ جیسے سخت قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملہ میں انہیں 3 دسمبر 2022 کو ضمانت دی گئی لیکن ان پر عائد دیگر مقدمات کی وجہ سے وہ جیل سے رہا نہ ہوسکے۔ عمر خالد کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف شدید احتجاج کے بعد گرفتار کرکے جیل بھیج دیا اور ان پر دہلی فسادات کی سازش رچنے کا الزام عائد کیا گیا۔ پولیس نے ان سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے نام پر فسادات کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا۔
گرفتاری کے بعد سے عمر خالد کے وکلا کی جانب سے متعدد عدالتوں میں ضمانت کی عرضی داخل کی گئی تاہم ایک ہزار دن گذرنے کے باوجود انہیں کوئی ضمانت نہیں ملی ہے۔ عمر خالد نے اپنی عمر کے 2 برس 8 ماہ اور 25 دن جیل میں گذارے، انہیں اس دوران بہن کی شادی کے موقع پر صرف 7 دنوں کی ضمانت دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ فروری 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کرنے کے الزام میں خالد‘ شرجیل امام اور دیگر کئی افراد کے خلاف یو اے پی اے اور تعزیرات ِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور زائداز 700 زخمی ہوئے تھے۔


