فتویٰ ایک نظام کے تحت دیا جاتا ہے، دارالعلوم دیوبند میں ہر شخص کا استقبال ہے، کلاوا پر فتویٰ معاملہ میں مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کی وضاحت

حیدرآباد : (دکن فائلز ڈاٹ کام) کچھ مسلم نوجوانوں کے کلاوا پہننے پر اعتراض جتاتے ہوئے سخت گیر ہندو تنظیم کرانتی سینا نے دارالعلوم دیوبند سے اس سلسلہ میں فتویٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق کچھ ہندو تنظیموں کے عہدیداروں نے پولیس کی اعانت سے دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ سے فون پر بات کی۔ جس کے بعد کرانتی سینا سے وابستہ ارکان نے دارالعلوم دیوبند پر الزام عائد کیا کہ ادارہ نے مسلم نوجوانوں کے کلاوا پہننے پر فتویٰ دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تحریک چھیڑنے کی بھی بات کی۔
واضح رہے کہ کرانتی سینا کے لیڈروں کو دو روز قبل مسلم نوجوانوں کی جانب سے کلاوا باندھنے کے خلاف فتویٰ لینے کےلئے دیوبند آنے کے اعلان کے بعد نظر بند کر دیا تھا، جس کے بعد ہندو تنظیموں سے وابستہ کچھ ارکان ایس ایس پی سے ملاقات کرکے اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی جس کے بعد ایس ایس پی نے دیوبند سی او سے معاملے میں مداخلت کرنے کو کہا تھا۔ سی او آفس نے انہیں فون پر دارالعلوم کے نمائندے سے بات کرائی۔
دارالعلوم کی انتظامیہ نے ہندو تنظیموں کے ارکان کو اس معاملے میں نظام کے تحت فتویٰ لینے کی بات کہی ہے، لیکن ہندو تنظیموں کا الزام ہے کہ انہیں فتویٰ دینے سے انکار کیا گیا۔
وہیں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ ادارہ میں فتویٰ لینے کے سلسلہ میں فون آیا تھا، انہیں کہا گیا کہ وہ دارلافتاء سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ چونکہ درالافتاء کے ذریعہ ہی فتویٰ دیا جاتا ہے، اسی لئے کسی مسئلہ پر فتویٰ حاصل کرنے کےلئے دارالافتا سے ہی رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ادارہ کی جانب سے کسی کو فتویٰ دینے سے انکار نہیں کیا جاتا لیکن اس کےلئے ایک نظام ہے جس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے دروازے بلالحاظ مذہب وملت ہر شخص کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی شخص دارالعلوم آسکتا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن کسی مسئلے پر فتویٰ حاصل کرنے کے لئے دارالعلوم انتظامیہ سے ملاقات کرنے کے لئے آنا اس لئے غیر ضروری ہے کہ دفتر اہتمام فتویٰ جاری کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں