بی جے پی کے اقلیتی رہنما متوجہ ہوں! سب کا ساتھ نعرہ کی پول کھل گئی، بھگوا پارٹی کے مسلم رہنما بھی اترکاشی چھوڑنے پر مجبور، ہجرت کرنے والی خاتون کا کربناک بیان (ویڈیو ضرور دیکھیں)

اتراکھنڈ کے اترکاشی میں ہندو شدت پسند تنظیموں نے مسلم دکانداروں کو مبینہ طور پر دھمکی دیتے ہوئے ان سے اپنی دکانیں خالی کرنے کو کہا ہے۔
واضح رہے کہ ایک ہندو لڑکی کے مبینہ اغوا واقعہ کے بعد سے علاقہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی دیکھی جارہی ہے۔ وہیں انتظامیہ نے حالات قابو میں ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن مسلمانوں کو دھمکی دینے والوں کی اب تک کوئی گرفتاری نہیں کی گئی جنہوں نے علاقہ میں پوسٹر لگاکر مسلم دکانداروں کو یہاں سے چلے جانے کی دھمکی دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق فرقہ پرستوں کی دھمکی کے بعد مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے اور کچھ مسلم تاجر اپنے 40 سالہ کاروبار کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب کے بیچ بی جے پی حکومت میں پارٹی اقلیتی سیل کے رہنما بھی فرقہ پرستی کے زہر سے بچ نہ سکے۔ اترکاشی میں بی جے پی اقلیتی سیل کے صدر محمد زاہد نے بھی علاقہ کو چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی اور اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے علاقہ کو چھوڑ دیا۔


پرولہ سے انخلا کرنے والے 45 سالہ محمد زاہد جو کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقلیتی سیل کی ضلعی شاخ کے صدر ہیں۔ وہ سات جون کو اپنے گھر کا سامان پیک کرکے بذریعہ کار دہرہ دون (ڈیرہ دون) میں اپنے ایک رشتے دار کے گھر چلے گئے۔ انہوں نے نئی دہلی میں ’دی کوئنٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اترکاشی میں میری جان کو خطرہ تھا اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا۔ ان کا گارمنٹ کا بزنس ہے۔
زاہد کا کہنا ہے کہ وہ سات آٹھ سال سے بی جے پی سے وابستہ ہیں۔ ضلعی صدر بننے سے قبل وہ کئی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق جب بی جے پی کے ایک عہدے دار کو خطرات لاحق ہیں تو بھلا اور کون محفوظ ہوگا۔ ان کے مطابق انہوں نے پیسے یا عہدے کے لیے بی جے پی میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی بلکہ اس لیے کی تھی کہ اگر ان کے ساتھ کچھ غلط ہوگا تو وہ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ محمد زاہد پسماندہ مسلمانوں کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بی جے پی آج کل پسماندہ مسلمانوں کے مسائل پر خاص توجہ دینے کا دعویٰ کررہی ہے جبکہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس بی جے پی کا نعرہ ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مبینہ اغوا کی کوشش میں ایک غیر مسلمان شخص بھی شامل تھا۔ اگر مسلمانوں سے قصبہ چھوڑنے کو کہا جا رہا ہے تو غیر مسلموں سے بھی کہا جائے۔ تمام کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
وہیں ایک اور بی جے پی رہنما اقلیتی سیل کے ریاستی صدر انتظار حسین کا کہنا ہے کہ کسی پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ وہ لوگ از خود جا رہے ہیں۔ بقول ان کے ہماری پارٹی کسی بھی برادری کے ساتھ زیادتی کے خلاف ہے۔ پرولہ کے ایس ایچ او خزان سنگھ نے مسلمانوں کی جانب سے ہجرت کرنے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف دو ایک دکاندار جو کہ ممکن ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہوں یہاں سے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں