بڑی خبر: سوہاس پالشیکر اور یوگیندر یادو کے بعد اب مزید 33 ماہرین تعلیم نے این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں سے اپنا نام ہٹانے کو کہہ دیا

(دکن فائلز ڈاٹ کام) آج 33 ماہرتعلیم نے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی نصابی کتب میں جاری نظرثانی مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بطور احتجاج نصاب کتابوں سے اپنے نام ہٹا دینے کی گذارش کی ہے۔

قبل ازیں یوگیندر یادو اور سوہاس پالشیکر نے بھی اپنے ناموں کو نصابی کتابوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کتابوں پر اپنا نام دیکھنا ان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ این سی ای آر ٹی کی جانب سے نصاب کو ‘منطقی’ بنانے کی قواعد کے درمیان ماہر تعلیم سوہاس پالشیکر اور سماجی کارکن یوگیندر یادو نے سیاسیات کی نصابی کتاب سے ‘خصوصی صلاح کار’ کے طور پر درج اپنے نام کو ہٹادینے کا مطالبہ کیا تھا۔

جن 33 ماہرین تعلیم نے این سی ای آر ٹی سے پولیٹیکل سائنس کے نصابی کتابوں سے اپنے نام ہٹانے کو کہا ہے، ان میں جے این یو کے سابق پروفیسر کانتی پرساد باجپائی شامل ہیں جو اس وقت نیشنل یونیورسٹی سنگاپور میں وائس ڈین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پرتاپ بھانو مہتا، اشوکا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر؛ راجیو بھارگو وغیرہ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ این سی ای آر ٹی نے کچھ روز قبل سیاسیات کی نصابی کتابوں میں کی گئی تبدیلیوں کے تحت 12ویں جماعت کی کتاب سے 2002 کے گجرات فسادات کے حوالہ جات کو ہٹا دیا، 10ویں جماعت کی کتاب سے جمہوریت اور تنوع، عوامی جدوجہد اور تحریکیں اور جمہوریت کو در پیش چیلنجز نامی ابواب اور 8 ویں جماعت کی نصابی کتاب سے سیڈیشن سے متعلق ایک سیکشن کو ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ این سی ای آر ٹی نے 12ویں جماعت کی تاریخ کی نصابی کتاب سے مغل تاریخ سے متعلق ابواب کو بھی ہٹا دیا۔ نیز 10 ویں جماعت کی حیاتیات کی نصابی کتاب سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے باب کو بھی ہٹا دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کونسل نے کووڈ کے بعد طلبا پر نصابی بوجھ کو کم کرنے کے لیے نصاب کو منطقی بنانے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے ان تبدیلیوں کو جائز ٹھہرایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں