حیدرآباد (دکن فائلز) راجستھان کے الور ضلع میں پولیس اسٹیشن کے باہر ایک 40 سالہ مسلم شخص سیکون خان کو پتھر سے حملہ کرکے ہلاک کیے جانے کے واقعے نے علاقے میں تشویش پیدا کردی ہے۔ مقتول کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے اس کی مسلم شناخت، داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ پولیس نے مذہبی بنیاد پر حملے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کو مبینہ طور پر ذہنی طور پر غیر مستحکم بتایا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ 24 ستمبر کو الور کے بارودہ میو پولیس اسٹیشن کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے مطابق سیکون خان موٹر سائیکل کے لیے ٹائر خریدنے کی غرض سے بازار گیا تھا۔ وہ اپنے ایک ساتھی کو بینک کے قریب اتارنے کے بعد پولیس اسٹیشن کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ مبینہ طور پر ایک شخص نے اسے روکا، موٹر سائیکل سے اتارا اور اس کے سر پر پتھر سے متعدد مرتبہ حملہ کیا۔
شدید زخمی حالت میں سیکون خان کو پہلے مقامی طبی مرکز لے جایا گیا، جہاں سے اسے مزید علاج کے لیے الور منتقل کیا گیا، تاہم راستے میں اس کی موت ہوگئی۔ مقتول کے بھائی ارشاد خان نے دی وائر سے گفتگو میں کہا کہ سیکون کی کسی سے دشمنی نہیں تھی اور وہ سادہ زندگی گزارتا تھا۔
اہل خانہ کا الزام ہے کہ مقتول کی داڑھی اور ٹوپی سے اس کی مسلم شناخت نمایاں تھی، جس کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا گیا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم مذہبی شناخت کو قتل کی وجہ قرار دینے کا یہ دعویٰ فی الحال مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے کیا گیا الزام ہے، جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور اور مقتول کے درمیان پہلے سے کوئی ذاتی تنازع نہیں تھا۔ پولیس نے ملزم کو ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دیا اور مذہبی بنیاد پر حملے کی قیاس آرائیوں کی تردید کی۔ پولیس کے مطابق حملے میں ملوث شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
واقعہ پولیس اسٹیشن کے عین قریب پیش آنے کے باعث پولیس کی موجودگی اور فوری ردعمل کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کچھ مقامی افراد اور مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ پولیس اسٹیشن کے باہر ہوا اور پولیس کے ردعمل پر سوالات پیدا ہوئے۔
جموں و کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے بھی سیکون خان کے قتل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ میرواعظ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مقتول کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ سیکون خان کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس کی داڑھی اور ٹوپی سے اس کی مسلم شناخت ظاہر ہوتی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس الزام کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
میرواعظ نے مختلف ریاستوں میں بی جے پی رہنماؤں اور وزرا کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ بیانات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات تعصب کو معمول کا حصہ بنانے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو تقویت دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔


