ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کے نام کاٹنے کےلئے ہندوتوا شدت پسندوں کی ایک اور گھناؤنی سازش!

حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کی عمل آوری کے دوران مسلم ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر حذف کرنے کی مبینہ کوششوں نے ایک نیا سیاسی اور انتظامی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ریاست کے مختلف اسمبلی حلقوں میں ہزاروں مسلم ووٹروں کے نام کاٹنے کے لیے فرقہ پرست شدت پسندوں کی جانب سے ‘فارم-7’ کا تھوک (bulk) استعمال کیا جا رہا ہے، جس پر کانگریس رہنماؤں، سول سوسائٹی کے کارکنان اور معروف اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اقلیتوں کے ووٹنگ حقوق سے محروم کرنے کی منظم کوشش قرار دیا ہے۔

بیلگاوی نارتھ اسمبلی حلقے کے کم از کم چھ پولنگ اسٹیشنوں (ویربھدر نگر اور شیٹی گلی) میں تعینات بوتھ لیول افسران (BLOs) نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ خود کو بیلگاوی سٹی کارپوریشن کا نمائندہ بتانے والے دو افراد پہلے سے چھپے ہوئے (pre-printed) فارم-7 کی بڑی تعداد لے کر آئے۔

ان فارموں پر ووٹروں کے نام اور تفصیلات پہلے سے پرنٹ شدہ تھیں اور صرف مسلم ووٹروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ اعتراض درج کرانے والے (objector) کے نام ہاتھ سے لکھے گئے تھے یا خالی چھوڑے گئے تھے۔ بی ایل اوز نے جب اپنے علاقے کے قدیم رہائشیوں کے نام کاٹنے والے ان فارموں پر دستخط کرنے سے انکار کیا، تو ان پر شدید دباؤ ڈالا گیا اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر ادے کمار بسونتاپا تلوار کے نام سے ایک شخص سے فون پر بات کروائی گئی جس نے دستخط کرنے کی ہدایت دی۔

تاہم ای آر او تلوار نے بعد میں وضاحت کی کہ انہوں نے ایسی کوئی ہدایت نہیں دی اور ان کا نام غلط استعمال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وجئے پورہ میں 22 ستمبر کو 1,373 فارم-7 جمع کرائے گئے، جن میں سے 1,363 فارم صرف 10 افراد نے جمع کیے تھے۔ ان میں سے ایک فرد (ہچپا گانیگیر) نے اکیلے تقریباً 30 پولنگ اسٹیشنوں پر 493 درخواستیں جمع کرائیں۔

بیدر میں 23 ستمبر کو 30 افراد نے 1,700 سے زائد نام کاٹنے کی درخواستیں دیں۔ اعتراضات جمع کرانے کی حتمی تاریخ ختم ہونے کے بعد بھی ستمبر کے آخر تک 1,100 سے زائد مزید بلک فارم موصول ہوئے۔ اسی طرح بسوا کلیان، بلتھنگڈی اور موڈیگیرے میں بھی اسی نوعیت کے تھوک فارم-7 جمع کرانے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔

اداکار پرکاش راج نے اس طرح کی فرقہ پرستانہ کاروائیوں کو آپریشن لوٹس” قرار دیا اور الزام لگایا کہ ریاست بھر میں تقریباً 21,000 مسلم ووٹروں کے نام کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

کرناٹک کے وزراء ایشور کھانڈرے، ایم بی پاٹل اور کے پی سی سی رہنما بی کے ہری پرساد نے کہا کہ جعلی اور بغیر دستخط والے فارم جمع کرانے والوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ووٹروں کی آبادیاتی ساخت کو متاثر کرنے کے لیے جعلی اعتراضات درج کرا رہی ہے۔

بی جے پی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی سطح پر ایسی کوئی مہم نہیں چلائی جا رہی۔ اگر کسی فرد نے غلط یا جعلی درخواست جمع کرائی ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہونی چاہیے۔

انتخابی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام فارم-7 اور اعتراضات کی گراؤنڈ لیول پر باریک بینی سے جانچ کی جائے گی تاکہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام لسٹ سے نہ نکلے۔ بغیر کسی معقول سبب کے جعلی یا گمراہ کن اعتراضات جمع کرانے والوں کے خلاف انتخابی قوانین کے تحت قانونی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں