حیدرآباد کے نامپلی علاقے میں بیٹری لائنز کے رہنے والے 48 سالہ سید سیف الدین، جئے پور ایکسپریس فائرنگ میں شہید تین مسلم مسافرین میں سے ایک ہیں۔ جنہیں گذشتہ روز جے پور-ممبئی ٹرین میں آر پی ایف کے ایک کانسٹیبل نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔
سید سیف الدین کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین معصوم بیٹیاں شامل ہیں، جن کی عمر 5 سال، 3 سال اور ایک تو صرف چھ ماہ کی معصوم لڑکی ہے۔ وہ کوٹھی میں واقع گجرات گلی میں ایک چھوٹی سی دکان میں ملازمت کرتے تھے اور کرایہ کے مکان میں رہ رہے تھے۔
سید سیف الدین، دکان کے مالک کے ساتھ راجستھان گئے ہوئے تھے اور واپس ممبئی آتے وقت یہ واقعہ پیش آیا۔ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے سیف الدین کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ جئے پور ٹرین حادثہ میں مہلوکین میں سے ایک کا تعلق حیدرآباد کے نامپلی علاقہ سے ہے۔
سید سیف الدین کے والد اور والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے- ۔سیف الدین کے رشتہ داروں نے مودی و کے سی آر حکومت سے 5 کروڑ روپئے معاوضہ اور ان کی گریجویٹ اہلیہ کو سرکاری نوکری دینے کا مطالبہ کیا۔ رشتہ داروں نے بتایاکہ ٹرین کے سفر میں سیف الدین کے ساتھ رہنے والوں نے کہا کہ شدت پسند کانسٹیبل نے سیف الدین کو مارنے سے قبل ان کے چہرہ پر داڑھی دیکھی اور ان کا نام پوچھ کر فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کردیا جبکہ اطراف میں دیگر کئی لوگ بغیر داڑھی کے موجود تھے۔ رشتہ داروں نے اس واقعہ کو مسلم دشمنی میں کیا گیا دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ رشتہ داروں نے مودی حکومت پر سخت تنقید کی اور ملک میں پھیلی ہوئی نفرت انگیز فضا سے متعلق سوال کرتے ہوئے وزیراعظم مودی سے سوال کیا کہ ’کیا یہ ہے آپ کا سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس؟


