حیدرآباد میں دھماکوں کی سازش کیس میں 11 ملزمین کو 10، 10 سال کی سزا: این آئی اے کورٹ کا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کو ممنوعہ انڈین مجاہدین کے ایک کارکن کو 2012 کے دہشت گردانہ سازش کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں دھماکوں کی سازش کیس کا فیصلہ آج سنایا گیا۔ دہلی این آئی اے عدالت نے اس معاملے میں گیارہ ملزمان کو دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ این آئی اے کی خصوصی عدالت نے اس معاملے میں کلیدی ملزم عبیدالرحمان کے علاوہ دیگر 10 ملزمین کو قید کی سزا سنائی ہے۔ عبیدالرحمن پر پاکستان سے دھماکہ خیز مواد لاکر دھماکوں کی سازش کا الزام تھا۔ تلنگانہ پولیس نے اس سازش کو ناکام بنایا تھا۔

عبیدالرحمن پر متعدد علاقوں میں دھماکے کرنے کی سازش کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ گذشتہ 22 ستمبر کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے سید مقبول کو بھی اس معاملے میں مجرم قرار دیا تھا۔ مقبول اس معاملے میں پانچواں ملزم ہے۔ مقبول کا تعلق ناندیڑ سے ہے جسے گذشتہ 28 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں چار افراد دانش انصاری، آفتاب عالم، عمران خان اور عبیدالرحمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

وفاقی ایجنسی کے ترجمان نے بتایا کہ کل 11 ملزمان میں سے اس مقدمے میں سزا پانے والا مقبول پانچواں شخص ہے۔ 12 جولائی کو اس مقدمے میں چار افراد ملزمین دانش انصاری، آفتاب عالم، عمران خان اور عبید الرحمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجرمین نے ہندوستان کے اندر مختلف مقامات پر حملے کرنے کی سازش رچی تھی جس کا بنیادی ہدف حیدرآباد تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں